جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

غیرملکی خاتون ’ ’ اجتماعی زیادتی‘ ‘کیس میں نئے انکشافات؛ دورہ پنجاب اسمبلی اور پارٹی کی ویڈیو بھی سامنے آگئی

datetime 1  اکتوبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)لاہور میں غیر ملکی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے کی تفتیش کے دوران مزید تفصیلات سامنے آگئی ہیں،

جبکہ پولیس نے گرفتار ملزمان سے پوچھ گچھ کے بعد واقعے کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق کیس میں مسکان، محسن اور علی زین کو گرفتار کیا جاچکا ہے، جبکہ تفتیش کے لیے 20 سے زائد دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ مرکزی ملزم احمد تنویر تاحال پولیس کی گرفت میں نہیں آسکا اور اس کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔گرفتار ملزمان نے پولیس کو اپنے بیانات بھی ریکارڈ کرا دیے ہیں۔ مسکان کے مطابق اس کی متاثرہ خاتون ڈیانا سے پہلی ملاقات ایک پارٹی میں ہوئی تھی، جہاں ڈیانا نے مسکان اور نمرہ کے ساتھ اپنا موبائل نمبر شیئر کیا اور آئندہ پارٹیوں میں دعوت پر شرکت کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ملزم محسن نے اپنے بیان میں بتایا کہ ڈیانا سے اس کی پہلی ملاقات 25 ستمبر کو مسکان اور نمرہ کے ذریعے ایک نجی سوسائٹی میں ہوئی۔ اس کے بعد وہ نمرہ، مسکان اور ڈیانا کے ہمراہ ڈیفنس گیا۔علی زین کے بیان کے مطابق ڈیفنس میں موجود ایک فلیٹ میں ڈیانا کے ساتھ وقت گزارا گیا، جہاں پارٹی کے دوران خاتون کے رویے میں مبینہ طور پر تبدیلی آئی اور صورتحال کشیدہ ہوگئی۔محسن نے پولیس کو بتایا کہ بعد میں ڈیانا کو گاڑی میں بٹھا کر وہاں سے روانہ ہوئے، تاہم غازی روڈ پہنچنے پر اس نے گاڑی کے اندر ہاتھا پائی شروع کردی۔ اس کے بعد خاتون مبینہ طور پر غازی روڈ پر خود گاڑی سے اتر گئی۔

علی زین کے مطابق صورتحال سے گھبرا کر وہ گاڑی لے کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔ اس دوران ڈیانا کا پرس اور موبائل فون گاڑی میں رہ گیا، جنہیں ملزمان کے بیان کے مطابق راستے میں گاڑی سے باہر پھینک دیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران متعلقہ فلیٹ کی نشاندہی کرلی گئی ہے اور وہاں سے شواہد بھی جمع کیے گئے ہیں۔ حکام مختلف بیانات اور دستیاب شواہد کی روشنی میں واقعے کی کڑیاں ملانے میں مصروف ہیں۔دوسری جانب آذربائیجانی خاتون ڈیانا کی پنجاب اسمبلی آمد کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس میں وہ اسمبلی ہال کے اندر موجود دکھائی دیتی ہیں۔ ویڈیو میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ایک دفتر میں ویڈیو بناتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ عمارت کے مختلف حصوں کے مناظر بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق پولیس اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ ڈیانا پنجاب اسمبلی کس مقصد سے گئی تھیں اور انہیں وہاں جانے کی اجازت یا رابطہ کس ذریعے سے حاصل ہوا۔ اس حوالے سے مزید معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں۔مبینہ اجتماعی زیادتی کیس کی تحقیقات کے دوران پولیس غیر ملکی خاتون کی پاکستان میں سرگرمیوں، مختلف افراد سے روابط اور نقل و حرکت سے متعلق معلومات بھی جمع کررہی ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار ملزمان پولیس ریمانڈ پر ہیں، جبکہ تیسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے جاری ہیں۔غیر ملکی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کا مقدمہ تھانہ ڈیفنس سی میں درج ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے سے متعلق مزید حقائق سامنے آسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…