لاہور (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی صورتحال کے باعث آنے والے دنوں میں پیٹرول کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، حتیٰ کہ ہزار روپے فی لیٹر میں بھی پیٹرول کا ملنا مشکل ہوسکتا ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک میں اس وقت پیٹرول کی دستیابی متاثر ہے، جبکہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں جو حالات پیدا ہو رہے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ ایسے راستے کا انتخاب نہ کیا جائے جہاں سے واپسی ممکن نہ رہے۔
محسن نقوی نے پی ٹی آئی کی جانب سے ممکنہ لانگ مارچ کے حوالے سے کہا کہ پارٹی قیادت میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو لانگ مارچ کے حق میں نہیں۔ تاہم اگر لانگ مارچ کیا گیا تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر مکمل طور پر عملدرآمد کرایا جائے گا اور حکومت دستیاب تمام قانونی راستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ طرزِ عمل سے سیاسی جماعت کو اپنے کارکنوں اور خود کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کے بقول اس مرتبہ ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا کہ کسی احتجاج کے باعث ملک کو 10 یا 20 روز کے لیے بندش کا سامنا کرنا پڑے، بلکہ اس حوالے سے مستقل حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔
شہداء کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ جاں بحق ہونے والے افراد کسی ایک فریق کے نہیں بلکہ پاکستان کے شہداء ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے اس معاملے میں جس طرز عمل کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ ذکر ہے، کیونکہ نہ خود اور نہ ہی ان کی حکومت کے کسی وزیر نے شہداء کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔
بانی پی ٹی آئی کے علاج اور طبی معائنے سے متعلق محسن نقوی نے کہا کہ حکومت قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے طبی سہولیات فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلے کسی کے مطالبے پر نہیں بلکہ قانون کے مطابق کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ رات کے وقت بھی ہوچکا ہے اور ان کے مطابق خود پی ٹی آئی کو بھی اپنے مطالبات کی مکمل وضاحت نہیں۔
نئے صوبوں کے قیام کے سوال پر محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ ملک میں نئے صوبے ضرور قائم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں سے متعلق معاملہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
افغانستان کے بارے میں وفاقی وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ جب تک افغان حکام اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کرتے، دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر نہیں آسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس مسئلے کا مستقل حل چاہتا ہے اور بار بار پیدا ہونے والی ایسی صورتحال کا مزید سامنا نہیں کیا جاسکتا۔



















































