اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستانی معیشت کے لیے مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں فچ کی ذیلی معاشی تحقیقی تنظیم بی ایم آئی نے رواں سال امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی سے متعلق اپنی سابقہ پیشگوئی واپس لے لی ہے۔
بی ایم آئی نے اپنی نئی رپورٹ میں 2026 کے اختتام پر ڈالر کی قیمت 288 روپے تک پہنچنے کے سابقہ اندازے کو تبدیل کردیا ہے۔ ادارے کے مطابق اب رواں سال کے دوران پاکستانی روپیہ تقریباً **278 روپے فی ڈالر** کی سطح پر مستحکم رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں بلند شرح سود روپے کی قدر کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے، جس کے باعث مقامی کرنسی پر دباؤ محدود رہنے کی توقع ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اگست کے اختتام تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر **17.1 ارب ڈالر** تک پہنچ چکے تھے، جبکہ 3 ستمبر کو یورو بانڈ کے اجرا کے ذریعے پاکستان نے مزید **3 ارب ڈالر** حاصل کیے۔
بی ایم آئی کے مطابق عالمی مالیاتی منڈیوں تک پاکستان کی رسائی میں بہتری آنے سے مستقبل میں ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافہ متوقع ہے، جو روپے کے استحکام کے لیے بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔



















































