راولپنڈی میں شدید بارشوں اور نالہ لئی میں پانی کی سطح بڑھنے کے بعد 2 ستمبر کو تعلیمی اداروں کی ممکنہ بندش کے حوالے سے طلبہ اور والدین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
شہریوں کی نظریں اب ضلعی انتظامیہ کے حتمی فیصلے پر مرکوز ہیں۔
جڑواں شہروں میں گزشتہ روز ہونے والی شدید بارش نے معمولاتِ زندگی کو متاثر کیا، کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا جبکہ مختلف مقامات پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے یکم ستمبر کو ضلع بھر کے تعلیمی ادارے ایک دن کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم 2 ستمبر کو اسکولوں، کالجز اور دیگر تعلیمی اداروں کی تعطیل کے حوالے سے تاحال کوئی نیا سرکاری نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ اس صورتِ حال میں جب تک انتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ حکم جاری نہیں ہوتا، تعلیمی ادارے معمول کے شیڈول کے مطابق کھلنے کا امکان ہے۔
بارش کی شدت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ شمس آباد میں 201 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ نیو کٹاریاں میں 186، گولڑہ میں 157، ایچ ایٹ میں 155 جبکہ سیدپور میں 104 ملی میٹر بارش ہوئی۔
موسلا دھار بارش کے باعث نالہ لئی میں بھی پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی۔ کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 29 فٹ جبکہ گوالمنڈی میں 23.5 فٹ تک پہنچ گئی، جس کے بعد انتظامیہ نے حساس علاقوں میں موجود آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل شروع کردیا۔
دوسری جانب 2 ستمبر پنجاب کے طلبہ کے لیے ایک اور حوالے سے بھی اہم دن ہے، کیونکہ صوبے کے تمام 9 تعلیمی بورڈز کی جانب سے نویں جماعت کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج جاری کیے جانے ہیں۔
واضح رہے کہ راولپنڈی میں 2 ستمبر کی تعطیل سے متعلق حتمی فیصلہ صرف ضلعی انتظامیہ کے باضابطہ نوٹیفکیشن کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ طلبہ اور والدین کسی بھی غیر مصدقہ اطلاع پر انحصار کرنے کے بجائے سرکاری اعلان کو ہی حتمی قرار دیں۔



















































