ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

سندھ میں پالتو بلی کا پہلا سائنسی پوسٹ مارٹم، ویٹرنری تشخیص میں اہم پیش رفت

datetime 22  اگست‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)سندھ اینیمل ڈیزیز سرویلنس سینٹر نے ویٹرنری صحت، بیماریوں کی نگرانی اور سائنسی تحقیق کے شعبے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے سندھ میں پہلی مرتبہ ایک پالتو بلی کا باقاعدہ سائنسی پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا۔

سائنسی پوسٹ مارٹم دو ماہ کی پرشین بلی ”لیوناڈاس” کا کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران پھیپھڑوں میں پانی، جگر کے بڑھنے کی علامات، پیٹ میں خون جمع ہونے اور مدافعتی ردعمل کے شواہد سامنے آئے۔ تفصیلی سائنسی جائزے کے بعد ماہرین نے بلی کی موت کی وجہ غیر مطابقت رکھنے والے خون کی منتقلی کو قرار دیا۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کامیاب سائنسی پوسٹ مارٹم کو صوبے میں ویٹرنری میڈیسن کے شعبے میں اہم پیش رفت اور بریک تھرو قرار دیتے ہوئے محکمہ لائیو اسٹاک کے افسران اور ماہرین کو مبارکباد دی۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ویٹرنری شعبے کو سائنس، جدت اور جدید ادارہ جاتی نظام کے ذریعے مضبوط بنا رہی ہے، جبکہ پالتو جانوروں سمیت مویشیوں کے لیے جدید تشخیصی سہولیات کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ اینیمل ڈیزیز سرویلنس سینٹر بیماریوں کی نگرانی، بروقت تشخیص اور شواہد پر مبنی علاج میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ جدید ویٹرنری تشخیصی مراکز جانوروں کی بہبود کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سائنسی ویٹرنری سہولیات کے قیام سے جانوروں کے مالکان کا پیشہ ورانہ علاج پر اعتماد بڑھے گا اور سندھ ویٹرنری تشخیص اور جانوروں کی بیماریوں کی نگرانی کے شعبے میں قائدانہ حیثیت کی جانب گامزن ہوگا۔وزیر لائیو اسٹاک محمد علی ملکانی نے کہا کہ سندھ میں ویٹرنری لیبارٹریز اور سائنسی صلاحیتوں کو عالمی معیار کے مطابق بہتر بنایا جارہا ہے۔ جانوروں کی صحت کو درپیش نئے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے سائنسی صلاحیتوں میں اضافہ ضروری ہے۔سیکریٹری لائیو اسٹاک کاظم جتوئی نے وزیراعلیٰ کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پالتو بلی کے پوسٹ مارٹم نے سندھ میں جدید اور شواہد پر مبنی ویٹرنری نظام کی صلاحیت ثابت کردی ہے۔

ویٹرنری اداروں کی استعداد کار بڑھانے سے صوبے میں جانوروں کی صحت سے متعلق خدمات مزید بہتر ہوں گی۔چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ صوبے میں ویٹرنری تشخیص اور جانوروں کی بہبود کے حوالے سے نیا معیار قائم ہوا ہے۔ جانوروں کی صحت کی خدمات کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ماہر ویٹرنری ٹیم کے سربراہ آصف حیدر شاہ نے کہا کہ ٹیم کی پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کے باعث یہ اہم کامیابی ممکن ہوئی۔ سندھ حکومت کی جانب سے جدید ویٹرنری تشخیصی نظام کے فروغ سے جانوروں کی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور بہتر علاج میں مدد ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…