جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

گھر خریدنے یا بنانے کے لیے قرضہ، ہاؤسنگ فنانس کے قواعد میں بڑی تبدیلی

datetime 21  اگست‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی) ہاؤسنگ فنانس کے قوانین میں اہم ترمیم کرتے ہوئے گھروں کے لیے قرض کی مدت کو 30 سال تک بڑھا دیا،

نئے قواعد فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ہاؤسنگ فنانس کے قواعد میں اہم ترامیم کردی ہیں، جس کے تحت اب گھر کی خریداری کے لیے 30 سال تک کی مدت میں قرض حاصل کیا جاسکے گا۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے کہا گیا کہ نئے قواعد فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے اور 2019 سے 2021 کے دوران جاری کی گئی ہاؤسنگ فنانس سے متعلق متعدد سابقہ ہدایات کی جگہ لیں گے، بینکوں اور ڈویلپمنٹ فنانس انسٹی ٹیوشنز کو نئے فریم ورک پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔نئے قواعد کے تحت ہاؤسنگ فنانس گھر، فلیٹ یا پلاٹ خریدنے، ذاتی ملکیت کے پلاٹ پر گھر تعمیر کرنے، موجودہ گھر کی تزئین و توسیع اور سولر سمیت قابلِ تجدید توانائی کے نظام کی تنصیب کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے قرض کی زیادہ سے زیادہ مدت 10 سال مقرر کی گئی ہے۔اسٹیٹ بینک نے قرض لینے والے کی مالی استعداد جانچنے کے لیے بھی قواعد سخت کردیئے ہیں۔ بینکوں اور DFIs کو قرض کی منظوری سے قبل درخواست گزار کی تازہ ترین کریڈٹ رپورٹ مرکزی بینک کے Electronic Credit Information Bureau (eـCIB) یا لائسنس یافتہ نجی کریڈٹ بیورو سے حاصل کرنا ہوگی۔

نئے فریم ورک کے تحت مجوزہ ہاؤسنگ فنانس اور دیگر صارف قرضوں کی مجموعی ماہانہ ادائیگیاں قرض لینے والے کی خالص قابلِ استعمال آمدن کے 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہئیں۔ایک کروڑ روپے سے زائد کے قرضے کے لیے بینک یا ڈی ایف آئی کو پاکستان بینکس ایسوسی ایشن سے منظور شدہ کم از کم ایک ویلیوایٹر سے جائیداد کی مالیت کا تخمینہ حاصل کرنا ہوگا، جبکہ ایک کروڑ روپے تک کے فنانس کے لیے اندرونی ویلیوایشن کی اجازت ہوگی۔اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ہاؤسنگ فنانس سے خریدی یا تعمیر کی گئی جائیداد عموماً قرض فراہم کرنے والے بینک یا ڈی ایم آئی کے حق میں رہن رکھنا ضروری ہوگی تاہم 50 لاکھ روپے تک کے ہاؤسنگ فنانس کے لیے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ یا مساوی دستاویز کے ساتھ جائیداد پر لِین بھی قابل قبول ہوگی۔نئے قواعد میں فنانس شدہ رہائشی یونٹس کے لیے انشورنس یا تکافل کوریج بھی لازمی قرار دی گئی ہے، کوریج کی رقم بقایا ہاؤسنگ فنانس کے برابر ہونی چاہیے، جبکہ بینکوں کو قرض لینے والوں کو کوریج، پریمیم اور دیگر قابلِ اطلاق چارجز سے متعلق مکمل معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…