لاہور( این این آئی)ملک میں فروخت ہونے والے گھی، کوکنگ آئل اور دودھ کی بڑی تعداد کے نمونے مقررہ معیار پر پورے نہ اترنے کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی قیمت نگرانی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کی رپورٹ پیش کی گئی جس کے مطابق 48 فیصد ویجی ٹیبل گھی، 27.4 فیصد کوکنگ آئل، 75 فیصد ریفائنڈ پام اولیین، 25 فیصد مائع دودھ اور 44.5 فیصد ملک پائوڈر کے نمونے غیر معیاری قرار پائے۔رپورٹ کے مطابق 491 نمونے ملک کے مختلف علاقوں سے حاصل کرکے ان کا تجزیہ کیا گیا۔ بعض گھی کے نمونوں میں ٹرانس فیٹ کی مقدار انتہائی تشویشناک حد تک زیادہ پائی گئی، جو مقررہ حد 2 گرام فی 100 گرام کے مقابلے میں 15.87 گرام فی 100 گرام تک ریکارڈ ہوئی۔ گھی کے متعدد نمونوں میں وٹامن اے کی کمی، زائد پیرو آکسائیڈ ویلیو اور فری فیٹی ایسڈز بھی پائے گئے۔
کوکنگ آئل کے نمونوں میں بھی وٹامن اے کی کمی، زائد پیرو آکسائیڈ ویلیو، فری فیٹی ایسڈز اور تیزابیت سمیت دیگر خامیاں سامنے آئیں۔ صوبائی سطح پر سندھ میں غیر معیاری گھی اور کوکنگ آئل کی شرح سب سے زیادہ رہی، جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا ہ میں بھی بڑی تعداد میں نمونے مقررہ معیار پر پورے نہیں اترے۔دودھ کے معیار سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا کہ غیر معیاری پیک شدہ مائع دودھ کے تمام 26 نمونوں میں دودھ کی چکنائی مقررہ معیار سے کم تھی، جبکہ غیر معیاری ملک پاڈر کے تمام 8 نمونوں میں پروٹین کی مقدار مطلوبہ حد سے کم پائی گئی۔ خیبر پختونخوا ہ سے حاصل کیے گئے تمام پیک شدہ مائع دودھ کے نمونے بھی غیر معیاری قرار دئیے گئے۔
ویب سائٹ کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو فوری کارروائی کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کے معیار اور عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مربوط نظام، باقاعدہ سائنسی ٹیسٹنگ اور سخت کارروائی ضروری ہے۔ احسن اقبال نے ہدایت کی کہ غیر معیاری مصنوعات تیار کرنے والے مینوفیکچررز کے خلاف کارروائی کی جائے اور خوراک کے معیار کی سہ ماہی بنیادوں پر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔



















































