پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلئے عالمی اداروں نے 15برسوں میں صرف 6ارب ڈالر دیئے

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) گزشتہ 15برسوں میں عالمی اداروں نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کو محض 6ارب 60کروڑ20لاکھ ڈالرکی رقم دی۔پاکستان کو لوڈشیڈنگ سے چھٹکارادلانے کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے دوطرفہ اور کثیر القومی اداروں نے پاکستان کو گزشتہ 15برس کے دوران محض 6ارب 60کروڑ20 لاکھ ڈالرکی رقم دی۔ لیکن یہ رقم ضا ئع ہوگئ کیونکہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں حکومتیں اور قرض دینے والے ادارے اس مسئلے کو حل کرنے میں بری طرح ناکا م ہوئے۔ سرکاری ذرائع نے سرکاری اعدادوشمارکا دی نیوز سے تبادلہ کرتے ہوئے کہاکہ اوسطاً قرض دینے والے اداروں نے بجلی کے شعبے کیلئے سالانہ 40کروڑڈالرگزشتہ15برسوں میں سنہ2000سے2014-15تک دیئے،جس سے ملک میں توانائی کے بحران سے نمٹنے میں کسی حد تک مدد ملی۔ عالمی بینک اورایشیائی ترقیاتی بینک توانائی شعبے کو بہتر بنانے کیلئے نام نہاد اصلاحات کرتے رہے ، تاہم اس کے باوجود وہ حکومتوں سے شعبہ توانائی میں شدت سے درکار ساختیاتی اصلاحات کروانے میں ناکام رہے۔ قرض اور امداد دینے والے تمام اداروں نے گزشتہ 15برسوں میں کل 49.95ارب ڈالر دیئے ۔ اس میں تقریباً 30فیصد حصہ 15.01ارب ڈالر ادائیگیوں کے توازن اور بجٹ سپورٹ کی مد میں دیا گیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایاکہ توانائی کے شعبے کیلئے گزشتہ 15برسوں میں اس رقم میں سے 13فیصد رقم 6ارب 60کروڑ20 لاکھ ڈالر دیئے گئے۔ ایندھن کے شعبے کیلئے 5.142ارب ڈالر گزشتہ 5برسوں میں دیئے گئے۔ ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی شعبے کیلئے 3.749ارب ڈالر، تعلیم و تربیت کیلئے 2.908ارب ڈالر،طرز حکمرانی، تحقیقی اور شماریاتی شعبے کیلئے 2.886ارب ڈالر ، دیہی ترقی کیلئے2.578ارب ڈالردیئے گئے، 2005کے زلزلے کے بعد اس مد میں2.464ارب ڈالردیئے گئے،جبکہ دیگر شعبہ جات کیلئے 8.6ارب ڈالر گزشتہ 15سالوں میں دیئے گئے۔ دوسری جانب سرکاری عہدیداروں کاکہنا ہےکہ توانائی کے شعبے میں بہتری کیلئے پاکستان کو بجلی سازی،اس کی تقسیم کاری اور اس کے ترسیلی نظام میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی اور ساتھ ہی اس ضمن میں درپیش ساختیاتی رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا ۔ قر ض و امداد دینے والے اداروں کی رقوم سے ملک کے عمومی اہداف کے حصول میں مدد تو مل سکتی ہے لیکن یہ ہمارے تمام مسائل کا حل فراہم نہیں کرتا ۔ جب ان سے ان اداروں کی جانب سے عملدرآمد کیے جانے والے اصلاحاتی منصوبوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کاکہنا تھاکہ ان کی تجاویز بڑی حد تک ناکامی کا شکار ہوئیں کیونکہ اصلاحاتی منصوبوں پر کئی حصوں میں عملدرآمد کیا گیا ،کیونکہ جب ملک کو سرمائے کی ضرورت تھی تو جلد ہی ان اقدامات کو واپس تبدیل کردیا گیا، اس لیے گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں اس کا مثبت طور پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…