اسلام آباد(نیوزڈیسک) گزشتہ 15برسوں میں عالمی اداروں نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کو محض 6ارب 60کروڑ20لاکھ ڈالرکی رقم دی۔پاکستان کو لوڈشیڈنگ سے چھٹکارادلانے کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے دوطرفہ اور کثیر القومی اداروں نے پاکستان کو گزشتہ 15برس کے دوران محض 6ارب 60کروڑ20 لاکھ ڈالرکی رقم دی۔ لیکن یہ رقم ضا ئع ہوگئ کیونکہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں حکومتیں اور قرض دینے والے ادارے اس مسئلے کو حل کرنے میں بری طرح ناکا م ہوئے۔ سرکاری ذرائع نے سرکاری اعدادوشمارکا دی نیوز سے تبادلہ کرتے ہوئے کہاکہ اوسطاً قرض دینے والے اداروں نے بجلی کے شعبے کیلئے سالانہ 40کروڑڈالرگزشتہ15برسوں میں سنہ2000سے2014-15تک دیئے،جس سے ملک میں توانائی کے بحران سے نمٹنے میں کسی حد تک مدد ملی۔ عالمی بینک اورایشیائی ترقیاتی بینک توانائی شعبے کو بہتر بنانے کیلئے نام نہاد اصلاحات کرتے رہے ، تاہم اس کے باوجود وہ حکومتوں سے شعبہ توانائی میں شدت سے درکار ساختیاتی اصلاحات کروانے میں ناکام رہے۔ قرض اور امداد دینے والے تمام اداروں نے گزشتہ 15برسوں میں کل 49.95ارب ڈالر دیئے ۔ اس میں تقریباً 30فیصد حصہ 15.01ارب ڈالر ادائیگیوں کے توازن اور بجٹ سپورٹ کی مد میں دیا گیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایاکہ توانائی کے شعبے کیلئے گزشتہ 15برسوں میں اس رقم میں سے 13فیصد رقم 6ارب 60کروڑ20 لاکھ ڈالر دیئے گئے۔ ایندھن کے شعبے کیلئے 5.142ارب ڈالر گزشتہ 5برسوں میں دیئے گئے۔ ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی شعبے کیلئے 3.749ارب ڈالر، تعلیم و تربیت کیلئے 2.908ارب ڈالر،طرز حکمرانی، تحقیقی اور شماریاتی شعبے کیلئے 2.886ارب ڈالر ، دیہی ترقی کیلئے2.578ارب ڈالردیئے گئے، 2005کے زلزلے کے بعد اس مد میں2.464ارب ڈالردیئے گئے،جبکہ دیگر شعبہ جات کیلئے 8.6ارب ڈالر گزشتہ 15سالوں میں دیئے گئے۔ دوسری جانب سرکاری عہدیداروں کاکہنا ہےکہ توانائی کے شعبے میں بہتری کیلئے پاکستان کو بجلی سازی،اس کی تقسیم کاری اور اس کے ترسیلی نظام میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی اور ساتھ ہی اس ضمن میں درپیش ساختیاتی رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا ۔ قر ض و امداد دینے والے اداروں کی رقوم سے ملک کے عمومی اہداف کے حصول میں مدد تو مل سکتی ہے لیکن یہ ہمارے تمام مسائل کا حل فراہم نہیں کرتا ۔ جب ان سے ان اداروں کی جانب سے عملدرآمد کیے جانے والے اصلاحاتی منصوبوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کاکہنا تھاکہ ان کی تجاویز بڑی حد تک ناکامی کا شکار ہوئیں کیونکہ اصلاحاتی منصوبوں پر کئی حصوں میں عملدرآمد کیا گیا ،کیونکہ جب ملک کو سرمائے کی ضرورت تھی تو جلد ہی ان اقدامات کو واپس تبدیل کردیا گیا، اس لیے گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں اس کا مثبت طور پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔
لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلئے عالمی اداروں نے 15برسوں میں صرف 6ارب ڈالر دیئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے بعد سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور بڑی خوشخبری
-
اواتار مائونٹین
-
خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کتنی سستی ہوسکتی ہیں؟
-
بجلی کے بل نے شہری کا راز فاش کر دیا، فلیٹ میں 300 اژدہے پالنے پر گرفتار
-
سونے کی قیمت میں بڑی کمی
-
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت مزید گر گئی، سات ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئی
-
دورانِ شاپنگ ماں بچوں کو گاڑی میں بھول گئی، شدید گرمی سے 2 کمسن بہن بھائی ہلاک
-
عوام کو جلد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کی خوشخبری ملنے والی ہے، بڑا اعلان
-
جون میں سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مزید کمی
-
سرگودھا میں شہریوں نے کمسن بچی کے قاتل کو قبرستانوں میں دفنانے کی اجازت نہ دی
-
25 لڑکیوں کی خفیہ ریکارڈنگ اور بلیک میلنگ، قصور سے چونکا دینے والا سکینڈل سامنے آگیا
-
سلمان خان کی24 سال قبل دیا مرزا سے کی گئی انوکھی پیشگوئی
-
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تاریخ میں پہلی بار رن وے پر مسافروں کا دھرنا



















































