جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

خوشخبری، عازمین حج گھر بیٹھے درخواست جمع کروانے کا آسان طریقہ سامنے آگیا

datetime 10  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے اعلان کیا ہے کہ حج درخواستوں کے پورے عمل کو ڈیجیٹل بنا دیا گیا ہے،

جس کے تحت عازمین اب گھر بیٹھے آن لائن درخواست جمع کرا سکیں گے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کا مقصد عازمین کو دفاتر کے چکر، انتظار اور طویل قطاروں سے نجات دلانا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 4 لاکھ رجسٹرڈ عازمین گھر سے ہی حج کے لیے درخواست دے سکیں گے۔سردار محمد یوسف کے مطابق حج اخراجات کی ادائیگی کے لیے عازمین کو تین مختلف طریقے فراہم کیے گئے ہیں۔ درخواست گزار کریڈٹ کارڈ یا پی ایس آئی ڈی کے ذریعے رقم جمع کرا سکتے ہیں، جبکہ چالان فارم پرنٹ کرکے نقد ادائیگی کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ سرکاری حج اسکیم کے تحت 107,526 عازمین کے لیے کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ حج اخراجات کی پہلی قسط 17 اگست سے وصول کی جائے گی، جبکہ دوسری قسط اکتوبر میں جمع کرائی جائے گی۔ درخواستیں پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد پر وصول ہوں گی اور مقررہ کوٹہ مکمل ہونے کے بعد درخواستوں کا عمل روک دیا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ نجی حج اسکیم کے تحت جانے والے افراد بھی پاک حج ایپ کے ذریعے اپنی پسند کے نجی حج آپریٹر کا انتخاب کرسکیں گے۔ عازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نجی آپریٹر کو براہِ راست رقم جمع کرانے سے گریز کریں اور ادائیگی کے لیے مقررہ طریقہ کار پر عمل کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…