جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

امریکا کیساتھ مذاکرات کی بحالی کیلئے تیار ہیں، ایران نے پاکستان کو آگاہ کردیا

datetime 27  جولائی  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے پاکستان کو آگاہ کردیا ہے کہ وہ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔

العربیہ انگلش کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ایران پاکستان کو تصدیق کرچکا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں مذاکرات جاری رکھنے کیلئے تیار ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران نے پاکستان کو آگاہ کیا کہ مذاکرات مفاہمتی یادداشت کے تحت جاری رہنے چاہئیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ایران چاہتا ہے کہ مذاکرات پہلی سطح پر آبنائے ہرمز پر ہوں، دوسرے مرحلے میں ان کے منجمد اثاثوں اور آخری سطح پر جوہری پروگرام پرمذاکرات ہوں۔بتایا گیا کہ پاکستان کو ایران نے بتایا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے ایک نئی راہداری بنانے کے اقدام کو مسترد کردتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے 17 جون 2026 کو اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کیے تھے اور اس کے تحت پہلے سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے عہدیداروں کے درمیان 40 سال بعد براہ راست مذاکرات ہوئے تھے۔ پاکستان اور قطر کی میزبانی میں سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے مذاکرات کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارش عاصم منیر اور قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان بن جاسم آل ثانی موجود تھے جبکہ ایران کے وفد کی سربراہی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے اور دیگر اراکین میں وزیرخارجہ عباس عراقچی اور دیگر عہدیدار شامل تھے، اسی طرح امریکی وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے۔امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوا جبکہ تیسرا دور اسلام آباد میں شیڈول تھا تاہم اس سے پہلے دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملے شروع کردیے اور مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہوگیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی حکام کی جانب سے ایک دوسرے پر مفاہمتی یاد داشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے مذاکرات جاری نہ رکھنے کا اعلان کیا تھا تاہم دو روز امریکی صدر نے دعوی کیا تھا کہ ایران مذاکرات کے لیے پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہے اور وہ سفارت کاری کو موقع دینا چاہتے ہیں۔دوسری جانب ایران نے واضح کیا تھا کہ امریکا نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملے شروع کیے ہیں اور مذاکرات کی تعطلی کا ذمہ دار امریکا ہے تاہم ایران سفارت کاری کے ذریعے تنازع کا حل نکالنے کے لیے تیار ہے لیکن دھمکی اور دھونس سے ڈرایا نہیں جاسکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…