اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ نئی دہلی مستقبل میں پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات کا ارادہ نہیں رکھتا۔
ان کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان کسی مرحلے پر بات چیت ہوئی تو وہ صرف گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے متعلق معاملات تک محدود ہوگی، جنہیں بھارت اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق لداخ کے علاقے دراس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان کی جانب سے دراندازی یا کسی بھی قسم کی عسکری مہم جوئی کی گئی تو بھارت اس کا سخت جواب دے گا۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کی قومی ترجیحات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان کے بقول بھارت ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز، چِپ ڈیزائننگ اور اسٹارٹ اپس جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جبکہ پاکستان پر انہوں نے دہشت گردی اور دراندازی کی سرپرستی کا الزام عائد کیا۔بھارتی وزیر دفاع نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ آپریشن “سندور” کے ذریعے پاکستان کے مبینہ دہشت گردی کے ڈھانچے کو واضح پیغام دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی مسلح افواج ملکی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر وقت مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی ممکنہ چیلنج کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔راج ناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ بھارت کی افواج مستقبل میں بھی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری عزم کے ساتھ انجام دیتی رہیں گی۔



















































