جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

سندھ میں خناق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، 1 درجن سے زائد بچے جاں بحق

datetime 25  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)کراچی میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بعد اب خناق (ڈفتھیریا) کے پھیلاؤ نے بھی محکمہ صحت کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے۔

سندھ انفیکشز ڈیزیز اسپتال نیپا میں رواں سال اس بیماری کے باعث 13 بچوں کی اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔رپورٹس کے مطابق سال 2026 کے دوران مذکورہ اسپتال میں خناق کے 30 مریض سامنے آئے، جن میں سے 13 بچے جانبر نہ ہو سکے۔ ملک بھر کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون تک خناق کے 308 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سب سے زیادہ تعداد سندھ سے سامنے آئی۔اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں اب تک 113 مشتبہ کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں 87، بلوچستان میں 64، پنجاب میں 35، اسلام آباد میں 7 اور گلگت بلتستان میں 2 مشتبہ مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ خناق ایک خطرناک اور متعدی بیماری ہے، جو ایک مریض سے دوسرے فرد تک آسانی سے منتقل ہو سکتی ہے۔ اس کی ابتدائی علامات میں گلے کی سوجن، گلے میں سرمئی رنگ کی جھلی بننا، تیز بخار، شدید گلے کا درد اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان علامات کو معمولی سمجھنے کے بجائے فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ کم عمر بچے اس بیماری سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، تاہم بروقت حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے اس سے مؤثر بچاؤ ممکن ہے۔ بچوں کو مقررہ شیڈول کے مطابق ویکسین لگوانے سے نہ صرف خناق بلکہ دیگر متعدد جان لیوا بیماریوں سے بھی تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے تحت بچوں کو ٹی بی، پولیو، خناق، تشنج، کالی کھانسی، ہیپاٹائٹس بی، ہیموفیلس انفلوئنزا، نمونیا، خسرہ، روبیلا اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین فراہم کی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق شیر خوار اور کم عمر بچوں کا مدافعتی نظام مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوتا، اس لیے بروقت ویکسینیشن ان کی صحت اور زندگی کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہے۔ماہرین صحت نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل کروائیں، کیونکہ ویکسین نہ صرف بچوں کو خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے بلکہ معاشرے میں متعدی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق بروقت تشخیص، مناسب علاج اور مکمل ویکسینیشن کے ذریعے خناق سمیت کئی مہلک بیماریوں سے قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…