جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

لاہور میں موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

datetime 24  جولائی  2026 |

لاہور( این این آئی) صوبائی دارالحکومت لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی

جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں بارش کا پانی گھروں اور مارکیٹوں میں داخل ہو گیا ،شاہراہیں پانی میں ڈوبنے سے ٹریفک کا نظام تعطل کا شکار رہا ، لیسکو کے فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی بھی گھنٹوں معطل رہی ۔تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں رات کے آخری پہر شروع ہونے والی موسلا دھار بارش کئی گھنٹے تک جاری رہی جس سے نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے ۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرہ آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ بارش کا پانی جمع ہونے سے بیشتر علاقے اور شاہراہیں دریا اور ندی نالوں کا منظر پیش کرتی رہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گرائونڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گرائونڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔

لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔شدید بارش کے باعث ڈیوٹی اور کاروبار پر جانے والوں کو شدید مشکلات درپیش رہیں۔موسلا دھار بارش کے باعث لاہور سمیت مختلف علاقوں میں نشیبی علاقے کئی کئی فٹ پانی میں ڈوبے رہے ، مرکزی شاہراہیں بھی پانی میں ڈوب گئیں جس کی وجہ سے ٹریفک بھی سست روی کا شکار رہی ، کئی مقامات پر گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بند ہونے سے بد ترین ٹریفک جام رہی ۔موسلا دھار بارش کے باعث لیسکو کے متعدد فیڈرز ٹرپ کر گئے جس سے گھنٹوں بجلی معطل رہی ۔کئی مقامات پر بارش کا پانی مارکیٹوں میں دکانوں کے اندر داخل ہو گیا جس سے لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…