جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

خواتین کوہ پیماؤں کا شاندار کارنامہ، 6 ہزار میٹر بلند خست گنگ چوٹی سر کرلی

datetime 22  جولائی  2026 |

ایبٹ آباد (این این آئی)خیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والی 8 باہمت خواتین کوہ پیماؤں نے گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں واقع 6 ہزار میٹر بلند برفانی چوٹی ”خست گنگ” کامیابی سے سر کر کے پاکستان کا نام روشن کر دیا،

اس شاندار کامیابی پر ملک کے دیگر حصوں کی طرح ہزارہ ڈویڑن کے عوام نے بھی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے باہمت خواتین کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔خست گنگ کی دشوار گزار اور برف پوش چوٹی کو سر کرنے والی خواتین کوہ پیماؤں میں خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے علاقہ شنکیاری سے تعلق رکھنے والی خاتون کی بیٹی ماریہ خان، بلوچستان کی ملائکہ خلجی، اسلام آباد کی بسمہ حسن، پنجاب کی سعدیہ مقبول، فوٹوگرافر عائقہ غازی، گلگت بلتستان کی ذیب بتول اور بی افزوں شامل ہیں۔

اس مہم میں ہزارہ ڈویژن کے ضلع مانسہرہ کے علاقے شنکیاری سے تعلق رکھنے والی خاتون کی بیٹی کی شرکت نے علاقے کے عوام کی خوشی میں مزید اضافہ کیا ہے،خواتین کوہ پیماؤں نے شدید سردی، برفانی ہواؤں اور دشوار گزار راستوں کا مقابلہ کرتے ہوئے 6 ہزار میٹر بلند چوٹی پر کامیابی سے قدم رکھا،اس تاریخی کارنامے کے ذریعے انہوں نے ثابت کر دیا کہ عزم، حوصلے اور محنت کے سامنے کوئی بھی بلند چوٹی ناقابل تسخیر نہیں،خست گنگ چوٹی سر کرنے والی پاکستانی خواتین کوہ پیماؤں کی کامیابی کو ملک بھر میں سراہا جا رہا ہے ،ہزارہ ڈویژن کے عوام نے اس شاندار کامیابی پر خواتین کوہ پیماؤں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان بہادر خواتین نے نہ صرف پاکستان کا پرچم بلند کیا بلکہ ان لوگوں کے لئے بھی ایک واضح پیغام دیا ہے جو خواتین کو کمزور سمجھتے ہیں،پاکستانی خواتین نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ زندگی کے ہر شعبے، خصوصاً کوہ پیمائی جیسے مشکل اور خطرناک میدان میں بھی عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…