جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

امریکا فرارہونے کی کوشش میں لاہور ایئرپورٹ سےگرفتار ہائی پروفائل شخصیا ت کے کیس میں ڈرامائی موڑ

datetime 21  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) سے متعلق مبینہ بجلی فراڈ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیے گئے ہائی پروفائل ملزمان میں شامل فیسکو کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار نے وعدہ معاف گواہ بننے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ایف آئی اے فیصل آباد کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد فیسکو کے سابق چھ چیف ایگزیکٹو افسران میں سے ایک نے تفتیشی حکام کے سامنے تعاون پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس سے کیس کی تحقیقات میں مزید اہم معلومات سامنے آنے کا امکان ہے۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق معروف صنعت کار اور ستارہ گروپ کے سربراہ میاں ادریس کو اگرچہ عدالت سے 3 اگست تک مشروط عبوری ضمانت مل چکی ہے، تاہم ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی برقرار ہے کیونکہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں شامل ہے۔یاد رہے کہ میاں ادریس کو 19 جولائی کو لاہور ایئرپورٹ سے اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ فیسکو کے دو سابق چیف ایگزیکٹو افسران کے ہمراہ قطر ایئرویز کی پرواز کے ذریعے دوحہ کے راستے امریکہ روانہ ہونے والے تھے۔ایف آئی اے کے مطابق ان کے خلاف بجلی فراڈ، آئی پی پیز سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور گیس و بجلی چوری کے الزامات کے تحت مختلف مقدمات درج ہیں، جن میں قومی خزانے کو 30 ارب روپے سے زائد نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔اس مقدمے کی ایف آئی آر 18 جولائی کو ایف آئی اے فیصل آباد سرکل میں درج کی گئی تھی، جس میں ستارہ انرجی لمیٹڈ، ستارہ کیمیکل انڈسٹریز کے ڈائریکٹرز، فیسکو کے متعدد سابق چیف ایگزیکٹو افسران اور نیپرا کے ایک اعلیٰ افسر سمیت کئی افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

تحقیقات کے مطابق یہ مقدمہ 2015 میں شروع ہونے والی انکوائری کے نتیجے میں سامنے آیا، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ نجی کمپنیوں کو بجلی کی خرید و فروخت کے دوران قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرقانونی مالی فائدہ پہنچایا گیا، جس سے قومی خزانے کو تقریباً 11 ارب 96 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ایف آئی اے کا مؤقف ہے کہ ستارہ انرجی لمیٹڈ نے بجلی پیدا کرنے کے لائسنس کی شرائط سے تجاوز کرتے ہوئے فیسکو کو بجلی فروخت کی، جبکہ پاور پرچیز ایگریمنٹ، نیپرا کی منظوری، نرخوں اور دیگر ریگولیٹری قواعد کی بھی خلاف ورزیاں کی گئیں۔تفتیشی حکام کے مطابق میاں ادریس اور ان کے گروپ پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے 2007 سے 2015 کے دوران مبینہ طور پر فیسکو حکام کی ملی بھگت سے اپنی کمپنیوں کی بجلی مہنگے نرخوں پر فروخت کی، جبکہ اپنی فیکٹریوں کے لیے سستی بجلی حاصل کی، جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔

ایف آئی اے کا مزید کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران ایسے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن کے مطابق سستی گیس کے حصول کے لیے مبینہ طور پر جعلی دستاویزات استعمال کی گئیں اور لائسنس کی مقررہ حدود سے زیادہ بجلی پیدا کر کے فروخت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نئے شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…