جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

جانوروں کو ذبح کرکے خون اور باقیات دریائے سوات میں پھینکنے کی ویڈیو وائرل

datetime 18  جولائی  2026 |

سوات (این این آئی)جانوروں کو ذبح کرکے خون اور دیگر باقیات دریائے سوات میں پھینکنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بحرین کے علاقے میں دریا کے کنارے جانوروں کا غیر قانونی سلاٹر ہاؤس بنایا گیا تھا۔ طویل عرصے سے دریا کے کنارے جانور ذبح ہوتے رہے، تاہم مقامی انتظامیہ اس صورتحال سے مکمل طور پر لاعلم رہی اور اب ویڈیو وائرل ہونے کے بعد حکام حرکت میں آ گئے ہیں۔خیبرپختونخوا حکومت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اپر سوات کی ضلعی انتظامیہ کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ واقعے کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے۔حکومتی احکامات کے بعد انتظامیہ نے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے تاکہ ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

یاد رہے کہ ماضی میں بھی سیاحتی مقامات اور دریاؤں کے کناروں پر غیر قانونی سلاٹر ہاؤسز کے قیام اور صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث ماحولیاتی آلودگی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق مقامی سطح پر انتظامی غفلت کے سبب دریاؤں میں آلائشیں پھینکنے کا یہ عمل عوامی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔بعد ازاں سوات پولیس نے سلاٹر ہاؤس چلانے والے شخص کو گرفتار کرکے تھانہ مدین میں مقدمہ درج کرلیا۔ ڈی سی اپر سوات کا کہنا ہے کہ سلاٹر ہاؤس کو سیل کردیا گیا ہے، جسے دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…