جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

پنجاب یونیورسٹی شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ میں مرغیاں پالنے کا انکشاف، تحقیقات کیلیے کمیٹی قائم

datetime 15  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کی عمارت میں نجی طور پر مرغیاں پالنے کی خبروں کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ حرکت میں آ گئی۔

وائس چانسلر نے میڈیا رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی چھان بین کے لیے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔یونیورسٹی کے مطابق کمیٹی کو دو ہفتوں میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جس میں یہ تعین کیا جائے گا کہ سرکاری عمارت، چھت اور لان میں مرغیاں کب، کتنی تعداد میں اور کس کی منظوری سے رکھی گئیں۔تحقیقات کے دوران یہ بھی جائزہ لیا جائے گا کہ آیا مرغیاں تدریسی یا تحقیقی مقاصد کے لیے رکھی گئی تھیں یا یہ ذاتی استعمال کا معاملہ تھا۔ اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کیا اس مقصد کے لیے یونیورسٹی سے باقاعدہ اجازت لی گئی تھی یا نہیں۔کمیٹی اس بات کی بھی جانچ کرے گی کہ کیا مرغیوں کی دیکھ بھال کے لیے سرکاری ملازمین کو ذمہ داریاں سونپی گئیں اور آیا ان کی پرورش میں یونیورسٹی کی بجلی، عمارت یا دیگر سرکاری وسائل استعمال ہوئے۔مزید یہ کہ اگر اس عمل سے جامعہ کو مالی نقصان پہنچا تو اس کا تخمینہ لگایا جائے گا اور ذمہ دار افراد کے تعین کے ساتھ نقصان کی وصولی سے متعلق سفارشات بھی مرتب کی جائیں گی۔ کمیٹی طلبہ کو درپیش مشکلات، بالخصوص شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ سے مرکزی لائبریری تک رسائی میں پیش آنے والی رکاوٹوں کا بھی جائزہ لے گی۔رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کامران عابد نے عمارت کی چھت اور لان میں مرغیاں پال رکھی تھیں،

جن کے لیے باقاعدہ ڈربے تعمیر کیے گئے۔ مزید یہ بھی سامنے آیا کہ مرغیوں کے تحفظ کے لیے لاکھوں روپے مالیت کا جنگلہ نصب کیا گیا، جس سے طلبہ کی آمدورفت متاثر ہوئی۔اطلاعات کے مطابق مرغیوں کی دیکھ بھال کے لیے شعبے کے بعض ملازمین خدمات انجام دے رہے تھے، جبکہ شدید گرمی کے دوران انہیں عمارت کے اندر منتقل کیا گیا اور کولر و ایئرکنڈیشنر جیسی سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ مرغیوں کا دانہ کلاس روم میں رکھا جاتا تھا۔یونیورسٹی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ادارے کی جانب سے نجی مرغیاں رکھنے کی کوئی اجازت نہیں دی گئی تھی اور معاملے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں۔دوسری جانب ڈاکٹر کامران عابد نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ یہ اقدام طالبات کو قدرتی ماحول فراہم کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا، اور ان کا ارادہ مستقبل میں مزید پرندے رکھنے کا بھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…