جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

بھارت و افغانستان کا ڈی این اے ایک جیسا ہے، افغان وزیر کو کہنا مہنگا پڑ گیا

datetime 14  جولائی  2026 |

بھارتیوں کی بھی کیا زندگی ہے، انہیں پاکستان سے دشمنی میں ایسے لوگوں کو گلے لگانا پڑ رہا ہے جنہیں اقوامِ متحدہ نے دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے،

صارف کا ردعمل
کابل (این این آئی )افغانستان کے وزیرِ زراعت، آب پاشی و لائیو اسٹاک مولوی عطا اللہ عمری نے دورہ بھارت کے دوران اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت اور افغانستان کا ڈی این اے ایک جیسا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق افغان وزیر مولوی عطا اللہ عمری کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر خوب ٹرولنگ ہو رہی ہے۔مولوی عطا اللہ عمری نے دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرا پہلا دورہ بھارت ہے، بھارت پہنچنے پر میرا بھارتی حکومت، وزیرِ خارجہ اور دیگر تمام افراد کی جانب سے نہایت گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ میں اپنے ہی لوگوں کے درمیان موجود ہوں، ایسا لگتا ہے جیسے یہ ہمارا اپنا ہی ملک ہو۔افغان وزیر نے بھارتی صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ آپ نے ذکر کیا ہمارا اور آپ کا ڈی این اے ایک ہی ہے۔

ان کی اس گفتگو کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں اور صارفین کی جانب سے ان پر مختلف قسم کے تبصرے بھی کیے جا رہے ہیں۔ایک صارف نے لکھا ہے کہ بھارتیوں کی بھی کیا زندگی ہے، انہیں پاکستان سے دشمنی میں ایسے لوگوں کو گلے لگانا پڑ رہا ہے جنہیں اقوامِ متحدہ نے دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔ایک اور صارف نے بھارت پر طنز کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں، تمام دہشت گردوں کا ڈی این اے ایک ہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…