جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

کراچی میں 6 سالہ ولی کے اغوا، مبینہ زیادتی اور سفاکانہ قتل کیس میں اہم پیش رفت

datetime 9  جولائی  2026 |

کراچی(این این آئی) لی مارکیٹ میں 6 سالہ ولی عابد کے اغوا، مبینہ زیادتی اور سفاکانہ قتل کے لرزہ خیز مقدمے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

پولیس نے مرکزی ملزم حمزہ کے گھر پر کارروائی کرتے ہوئے اس کے زیرِ استعمال پرانے کپڑے بطور فرانزک سیمپل قبضے میں لے لیے ہیں، جن سے ڈی این اے حاصل کرکے مقتول سے ملنے والے شواہد سے موازنہ کیا جائے گا۔ تفتیشی حکام نے کہا کہ مقدمے کو ناقابلِ تردید سائنسی شواہد کی بنیاد پر مضبوط بنایا جا رہا ہے۔پولیس کے مطابق کرائم سین یونٹ نے جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کیا اور وہاں سے اہم مائیکرو شواہد بھی اکٹھے کیے ہیں۔ ملزم کے ڈی این اے سمیت تمام فرانزک رپورٹس کی روشنی میں تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ عدالت میں مضبوط اور مؤثر شواہد پیش کیے جا سکیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر معصوم ولی عابد کو اپنے قبضے میں لینے کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا، پھر اسے قتل کرکے لاش بوری میں بند کی اور عمارت سے نیچے پھینک دی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا، جبکہ ملزم کی شناخت سامنے آنے پر مشتعل شہریوں نے اسے اور اس کے والد کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔پولیس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے شدید زخمی ملزم کو مشتعل ہجوم سے نکال کر سول اسپتال منتقل کیا، جہاں اس کا علاج اور طبی معائنہ جاری ہے۔ ادھر مشتعل افراد نے ملزم کے گھر کو نذرِ آتش کرنے کی بھی کوشش کی، تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پالیا۔دریں اثنا مقتول ولی عابد کی بہن غم سے نڈھال ہوگئیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ولی چار بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا، جسے اہلِ خانہ نے ہر ممکن جگہ تلاش کیا، مگر بعد میں اس کی لاش ملی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ ایک معصوم بچہ تھا، اور مطالبہ کیا کہ ملزم کو قانون کے مطابق سخت ترین اور قرار واقعی سزا دی جائے۔مقتول کے والد نے بھی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کی کہ اس اندوہناک مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور ملزم کو ایسی سزا دی جائے جو معاشرے کے لیے مثال بنے۔پولیس حکام نے کہا کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے تحقیقات جاری ہیں۔ سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں گردش کرنے والے غیر مصدقہ دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے حتمی حقائق صرف فرانزک شواہد، ڈی این اے رپورٹس اور مکمل تفتیش کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے ہر پہلو کو سائنسی بنیادوں پر جانچا جا رہا ہے تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…