جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کیس کی تفتیش میں بڑی پیش رفت

datetime 7  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک): لاہور کے علاقے ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کے مقدمے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق فرانزک تجزیے کے بعد چند ملزمان کے ڈی این اے نمونے متاثرہ خاتون سے مطابقت رکھتے ہیں، جس کے بعد رپورٹ کو باقاعدہ کیس ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی فرانزک نتائج میں ملزم نواز کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق الزام ہے کہ متاثرہ خاتون کو سب سے پہلے اسی ملزم نے نشانہ بنایا، جبکہ بعد ازاں اس کے مبینہ اکسانے پر دیگر ملزمان بھی واردات میں شریک ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اسی مقدمے سے متعلق غیر ملکی خواتین کی گاڑی کو پیش آنے والے ٹریفک حادثے کا الگ مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ کیس جنوبی چھاؤنی تھانے میں شہری عثمان کی درخواست پر قائم کیا گیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ حادثے کے نتیجے میں ان کی گاڑی کو تقریباً تین لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔ ایف آئی آر کے مطابق یہ حادثہ یکم جولائی کو شام کے وقت ایئرپورٹ کے قریب پیش آیا تھا۔

ادھر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے حالیہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ مقدمے میں نامزد تمام ملزمان کے ساتھ قانون کے مطابق یکساں رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، چاہے ان میں کسی بااثر شخصیت سے منسلک فرد ہی کیوں نہ شامل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کیس کی تحقیقات لاہور پولیس کر رہی ہے جبکہ پنجاب پولیس کا خصوصی ریپ سیل بھی شواہد کا جائزہ لے رہا ہے، اس لیے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) اس تفتیش کا حصہ نہیں ہے۔

اسی معاملے سے جڑی ایک اور پیش رفت میں سیشن کورٹ لاہور نے جوڈیشل مجسٹریٹ کو مبینہ طور پر دھمکانے کے مقدمے میں ایس ایچ او ڈیفنس سی فریاد علی کو 10 جولائی تک گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔

عدالت نے پولیس حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا اور ایس ایچ او کو تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت بھی دی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج عبدالقدوس نے عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔

یاد رہے کہ ایس ایچ او فریاد علی کے خلاف الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر جوڈیشل مجسٹریٹ کی رہائش گاہ پر جا کر انہیں دھمکانے میں ملوث رہے، جس پر تھانہ مصطفیٰ آباد میں مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…