جمعہ‬‮ ، 26 جون‬‮ 2026 

موٹرویز نیٹ ورک میں اہم پیش رفت، ایم 13 موٹروے سے لاہور اسلام آباد کے سفر میں تقریباً 100 کلومیٹر کمی اور ایک گھنٹہ وقت کی بچت ہوگی، خواجہ آصف

datetime 27  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیو ز ڈ یسک) پاکستان کے موٹروے نظام میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں زیرِ تعمیر ایم-13 موٹروے لاہور اور راولپنڈی/اسلام آباد کے درمیان سفر کو زیادہ مختصر اور تیز بنانے میں مدد دے گی۔

اس نئے روٹ کے ذریعے دونوں شہروں کے درمیان فاصلہ تقریباً 100 کلومیٹر کم ہو جائے گا جبکہ سفر کا وقت بھی لگ بھگ ایک گھنٹہ کم ہونے کی توقع ہے۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ یہ جدید چھ رویہ موٹروے مسافروں کو محفوظ اور تیز رفتار سفری سہولتیں فراہم کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ مال برداری کے شعبے کو بھی فائدہ پہنچے گا اور نقل و حمل کے اخراجات میں کمی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) نے صرف ایم-13 منصوبے ہی نہیں بلکہ ایم-12 سیالکوٹ۔کھاریاں موٹروے کی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ یہ منصوبہ اکتوبر 2024 سے رکا ہوا تھا، تاہم کونسل کی کوششوں کے نتیجے میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے فروری 2026 میں اس پر دوبارہ کام شروع کر دیا۔اسی طرح لاہور اور سیالکوٹ کو ملانے والی ایم-11 موٹروے کو بھی چار رویہ سے بڑھا کر چھ رویہ بنانے کا عمل جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق ایم-11، ایم-12 اور ایم-13 پر مشتمل یہ نیا کوریڈور مکمل ہونے کے بعد لاہور اور راولپنڈی/اسلام آباد کے درمیان سفر کرنے والی بڑی تعداد میں ٹریفک موجودہ ایم-2 کے بجائے اس نئے راستے کو اختیار کرے گی۔تخمینوں کے مطابق لاہور اور وفاقی دارالحکومت کے درمیان آنے جانے والی 50 سے 60 فیصد ٹریفک اس متبادل روٹ پر منتقل ہو سکتی ہے،

جس سے مسافروں اور تجارتی ٹرانسپورٹ دونوں کو سہولت حاصل ہوگی۔یہ شاہراہ جی ٹی روڈ کے ساتھ واقع بڑے شہروں خصوصاً سیالکوٹ کو بھی بہتر رابطہ فراہم کرے گی۔ اس کے اطراف صنعتی زونز اور تجارتی مراکز کے قیام کے امکانات بھی روشن ہیں، جس سے مقامی معیشت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔یہ کوریڈور لاہور، اسلام آباد، پشاور، افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ممالک اور خنجراب کے ذریعے چین تک رسائی فراہم کرے گا، جس کے باعث اس کی تجارتی اور اسٹریٹجک اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مختصر روٹ کی بدولت ایندھن کی مد میں اربوں روپے کی بچت ممکن ہوگی، کاربن اخراج میں کمی آئے گی اور لاجسٹکس کے شعبے کی کارکردگی میں نمایاں بہتری پیدا ہوگی، جبکہ پاکستان کے موٹروے نیٹ ورک کو بھی ایک مضبوط اور مؤثر متبادل راستہ میسر آئے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…