جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

اسلام آباد ٹریفک پولیس کا مرکزی دفتر غیر قانونی ہونے کا انکشاف

datetime 11  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک پولیس کا مرکزی دفتر غیر قانونی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قبضہ مافیا فری اسلام آباد کے دعوئوں کے درمیان سرکاری اداروں کا خود سرکاری جگہ پر قابض ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس نے فیض آباد مری روڈ پر سی ڈی اے کی کئی ایکٹر اراضی پر مبینہ طور پر قبضہ کیا ہوا ہے۔اسلام پولیس کی جانب سے جگہ کا کوئی رینٹ بھی نہیں دیا جا رہا جبکہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے اس حوالے سے کوئی مقف بھی سامنے نہیں آیا ہے۔دوسری جانب مری روڈ پر قائم ٹریفک پولیس آفس کے بارے میں سی ڈی اے کا موقف سامنے آ گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق مری روڈ کی 4.20ایکڑ اراضی کی اجازت 2008 ء میں واپس لی جا چکی ہے، ٹریفک پولیس کو 2016ء میں سیکٹر H-11/2میں متبادل 4.20 ایکڑ زمین الاٹ کی گئی تھی۔سی ڈی اے کے مطابق متبادل زمین کی الاٹمنٹ کی شرط تھی کہ مری روڈ کی موجودہ اراضی فوری طور پر خالی کی جائے تاہم متبادل زمین کے باوجود مری روڈ کا دفتر تاحال برقرار ہے۔

سی ڈی اے کے مطابق مری روڈ اراضی برقرار رکھنے کے لیے لینڈ یوز تبدیلی اور کابینہ ڈویژن سے منظوری لازمی ہے،بغیر منظوری سرکاری اراضی کے استعمال کی قانونی حیثیت برقرار نہیں رہتی، 2020ء میں آئی سی ٹی پولیس کی جانب سے فیض آباد کے قریب متبادل اراضی کی دوبارہ درخواست سامنے آئی تھی۔واضح رہے کہ اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جگہ کا معاملہ وفاقی کابینہ میں بھی زیر غور ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…