جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

انمول پنکی سے رابطوں کے الزام میں سی ٹی ڈی کے 2 اہلکار برطرف

datetime 5  جون‬‮  2026 |

کراچی (این این آئی)گارڈن پولیس کے ہاتھوں منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی سے رابطوں کے الزام میں کی گئی

تحقیقات میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)کراچی کے دو اہلکاروں کو برطرف کردیا گیا۔سی ٹی ڈی ذرائع نے بتایا کہ سی ٹی ڈی کے اے ایس آئی کفیل اعوان اور کانسٹیبل علی قریشی کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا اور دونوں پولیس اہلکاروں پر گزشتہ برسوں میں منشیات فروش انمول عرف پنکی سے رابطوں کا الزام تھا۔ذرائع نے بتایا کہ کفیل اعوان نے چند برس قبل انمول عرف پنکی کے ایک بائیک رائیڈر کو پکڑا تھا، جس کی گرفتاری کے بعد سے اس کے پنکی سے رابطے برھ تھے گئے۔سی ٹی ڈی ذرائع نے مزید بتایا کہ دونوں اہلکاروں کے خلاف انکوائری رپورٹ مکمل ہونے پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے چند روز بعد علی قریشی اور کفیل اعوان کو حراست میں بھی لیا گیا تھا اور دونوں کے باضابطہ طور پر بیانات بھی قلم بند کیے گئے تھے۔سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا تھا کہ کفیل اعوان اور علی قریشی کے موبائل فون کا فارنزک بھی کیا گیا تھا اور دونوں اہلکاروں کے بینک اکاونٹس کی تفصیلات بھی حاصل کی گئی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…