جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

نور مقدم کیس،ظاہر جعفر کی نظرِ ثانی کی درخواست مسترد، سزائے موت برقرار

datetime 4  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی نظرِ ثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مجرم کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ سنایا۔سماعت کے دوران ظاہر جعفر کے وکیل خواجہ حارث نے موقف اختیار کیا کہ وقوعے کے وقت میرے موکل کی ذہنی حالت درست نہیں تھی، ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیا اور ڈپریشن کی ادویات استعمال کرتا رہا ہے تاہم عدالت نے بیماری، علاج اور میڈیکل ریکارڈ سے متعلق تفصیلی شواہد طلب کیے۔بینچ نے استفسار کیا کہ مجرم کا علاج کب شروع ہوا؟ کون سے ڈاکٹرز نے علاج کیا اور وقوعے کے وقت علاج جاری تھا یا نہیں۔عدالت نے لندن کے کلینک سے پیش کیے گئے خط پر بھی سوالات اٹھائے اور دفاعی مقف میں تضادات کی نشاندہی کی۔خواجہ حارث نے موقف اپنایا کہ استغاثہ نے مجرم کا نشے کا ٹیسٹ نہیں کروایا اور ٹرائل کے دوران دبا ئوموجود تھا۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ عدالتیں نہ میڈیا رپورٹنگ اور نہ ہی سوشل میڈیا کے دبا میں فیصلے کرتی ہیں۔

وکیل نے عدالت سے دوبارہ ٹرائل کے بجائے سزا میں رعایت دینے کی درخواست کی تاہم عدالت نے قرار دیا کہ میڈیکل بورڈ کی تشکیل سے متعلق معاملہ پہلے ہی حتمی ہو چکا ہے اور دفاع اس نکتے کو مثر انداز میں ثابت نہیں کر سکا۔دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی سزا پر نظرِثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…