جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

کراچی، ساحل تھانے کی پولیس موبائل کا اغوا میں استعمال ہونے کا انکشاف

datetime 22  مئی‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)ڈسٹرکٹ ساوتھ کے ساحل تھانے کی پولیس موبائل کا کنسٹرکشن کمپنی کے مالک اور بھائی کے مبینہ اغوا میں استعمال کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے.

کنسٹرکشن کے کام سے وابستہ معاذ کا ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ساحل تھانے کی پولیس نے بااثر شخص کے کہنے پر بھائی سمیت بلاجواز اغوا اور ہراساں کر کے زبردستی ایگریمنٹ اور چیک دستخط کرائے اور اس حوالے سے ڈی ایس پی کمپلنٹ سیل کو تفصیلی درخواست بھی جمع کرائی ہے۔تاہم پولیس کی جانب سے کوئی تعاون نہیں کیا جا رہا اور نہ ہی پولیس اس پیٹرول پمپ کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر رہی ہے جہاں ہمیں لیجا کر زبردستی ایگریمنٹ اور چیک دستخط کرائے گئے۔کنسٹرکشن کمپنی کے مالک معاذ کا کہنا تھا کہ وہ ڈیفنس فیز 8 میں عمران نامی شخص کے بنگلے کی کنسٹرکشن کام کرا رہا تھا جس کا معاہدہ 4 کروڑ 75 لاکھ میں طے پایا گیا تھا بمعہ میٹریل جس میں سے 3 کروڑ 38 لاکھ روپے ادا کیے گئے ہیں۔بقیہ رقم کے لیے ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا بنگلے کے مالک نے مبینہ طور پر دیگر افراد کے ہمراہ پلاٹ پر آکر مجھے اور میرے بھائی بلال کو دھمکیاں دیں اور بدتمیزی کی بعدازاں ساحل تھانے کی پولیس کو بلوایا جہاں پولیس نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم دونوں بھائیوں کو بلاجواز پلاٹ سے مبینہ طور پر اغوا کر کے اپنے ہمراہ لے گئی اور ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

ویڈیو بیان میں ان کہنا تھا کہ ساحل تھانے کا ایک پولیس افسر مجھے اور میرے بھائی کو فیز 8 میں قائم ایک پیٹرول پمپ پر لے گیا جہاں پر ہم سے مبینہ طور پر زبردستی ایک ایگریمنٹ اور چیک بھی دستخط کرائے اور مبینہ طور پر میرے پاس موجود 2 لاکھ روپے بھی لے لیے۔کنسٹرکشن کمپنی کے مالک معاذ کا کہنا ہے کہ پولیس سے درخواست کے باوجود پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی چیک نہیں کی جا رہی جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پولیس کسی دباو کا شکار اور جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔متاثرہ شخص نے آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف سے اپیل کی ہے کہ واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائے اور ساحل پولیس کی جانب سے جانبداری کا مظاہرہ کرنے پر نہ صرف باز پرس کی جائے بلکہ محکمہ جاتی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…