جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

کرنٹ لگنے سے شہری کی ہلاکت کا کیس، کے الیکٹرک کو 1 کروڑ 35 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

datetime 16  مئی‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)عدالت نے کرنٹ لگنے سے شہری کی ہلاکت کے کیس میں کے الیکٹرک کو 1 کروڑ 35 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیدیا۔

ہفتہ کوکراچی کی سینئر سول جج وسطی کی عدالت نے بارش کے دوران ایک بچے کو بچاتے ہوئے کرنٹ لگنے سے شہری کی ہلاکت کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کے الیکٹرک کو غفلت کا مرتکب قرار دیا ہے اور متوفی کے اہلخانہ کو 1 کروڑ 35 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے جان لیوا حادثات ایکٹ کے تحت فیصلہ سناتے ہوئے کے الیکٹرک کو ہدایت کی ہے کہ ہرجانے کی یہ رقم 90 دن کے اندر متوفی کے اہلخانہ کو ادا کی جائے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ بجلی سے متعلقہ ادارے پر عوام کے تحفظ کی غیر معمولی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عوامی مقامات پر نصب پول میں کرنٹ کا ہونا بذاتِ خود غفلت کا ثبوت ہے اور بجلی کی ترسیل کے نظام کو محفوظ بنانا کے الیکٹرک کی ہی ذمہ داری ہے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کھمبے پر دیگر اداروں کی تاریں موجود ہونے سے کے الیکٹرک اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی، اور انسانی جان بچانے کی کوشش کو قانون ہمیشہ نرم نظر سے دیکھتا ہے، اس لیے متوفی کی بچے کو بچانے کی کوشش کو ہرگز غفلت قرار نہیں دیا جا سکتا۔درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق نے عدالت کو بتایا کہ یہ واقعہ 2019 میں پیش آیا تھا جب شہری شیخ سعد احمد بارش کے دوران ایک بچے کو بجلی کے کھمبے سے کرنٹ لگنے سے بچاتے ہوئے خود کرنٹ کا شکار ہو کر جاں بحق ہو گیا تھا۔وکیل کا کہنا تھا کہ علاقہ مکینوں نے کے الیکٹرک کو پہلے بھی شکایت کی تھی لیکن کوئی موثر کارروائی نہیں کی گئی، ادارہ اپنی تنصیبات کی دیکھ بھال میں ناکام رہا۔ متوفی شیخ سعد اپنے خاندان کا واحد کفیل تھا جو ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم اور گھر کے اخراجات چلا رہا تھا۔دوسری جانب کے الیکٹرک کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ متعلقہ پول کے الیکٹرک کی ملکیت نہیں ہے، بلکہ اس پول پر پرائیویٹ جنریٹر، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کیبل کی تاریں لگی ہوئی تھیں اور کرنٹ کا اخراج بھی جنریٹر کی تاروں سے ہوا تھا۔کے الیکٹرک کے وکیل کا دعوی تھا کہ ان کی تنصیبات مکمل طور پر محفوظ تھیں اور متوفی شہری نے خود خطرناک مقام کے قریب جا کر اپنی جان خطرے میں ڈالی۔ تاہم عدالت نے کے الیکٹرک کے دلائل مسترد کرتے ہوئے اسے غفلت کا ذمہ دار ٹھہرایا اور بھاری جرمانہ عائد کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…