منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ٹریفک جرمانوں میں بڑی کمی، قید کی سزائیں ختم، گورنر پنجاب نے بل پر دستخط کر دیئے

datetime 8  مئی‬‮  2026 |

لاہور (این این آئی) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے صوبائی موٹر وہیکل (دوسری ترمیم) بل 2026ء پر دستخط کر دیئے ، جس کے تحت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد بھاری جرمانوں میں نمایاں کمی اور قید کی سزائوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پرانے آرڈیننس میں لائسنسگ سے متعلق جرم کی سزا 50ہزار سے ایک لاکھ جرمانہ اور قید کو نئے بل میں 10ہزار سے 5ہزار اور قید کی سزا ختم کر دی گئی ہے۔ ون وے خلاف ورزی کی سزا 50ہزار یا 6ماہ قید یا دونوں تھی جبکہ نئی قانون سازی میں جرمانہ 5ہزار اور قید ختم کر دی گئی ہے۔ صوبائی موٹر وہیکلز آرڈیننس میں مجوزہ ترامیم کے مطابق ڈرائیونگ لائسنس، غلط سمت میں گاڑی چلانے، عمر کی حد کی خلاف ورزی، فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر گاڑی استعمال کرنے اور اوور لوڈنگ جیسے ٹریفک جرائم میں پہلے سے موجود قید اور لاکھوں روپے کے جرمانوں کو ختم یا کم کر دیا گیا ہے۔ لائسنس کی خلاف ورزی پرآرڈیننس 2025 ء میں پچاس ہزار روپے جرمانے کی تجویز تھی جبکہ نئے بل میں یہ صرف پانچ ہزار روپے کر دیا گیا جبکہ قید کی سزا ختم کر دی گئی ہے ۔ غلط سمت میں گاڑی چلانے پر آرڈیننس میں چھ ماہ قید یا پچاس ہزار روپے جرمانے کی دفعات تھیں، نیا بل صرف پانچ ہزار روپے جرمانے کی دفعات رکھتا ہے۔ عمر کی حد کی خلاف ورزی پرآرڈیننس میں چھ ماہ قید اور پچاس ہزار روپے کی سزا تھی، نیا بل میں دس ہزار روپے جرمانہ تجویز کرتا ہے۔ تاہم ایسی صورت میں گاڑی ضبط کر کے مالک یا مجاز شخص کے حوالے کی جائے گی، جو واجب الڈرائیونگ لائسنس رکھتا ہو۔بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی پر پرانے آرڈیننس میں چھ ماہ قید یا پچاس ہزار روپے اور سابقہ سزا کی صورت میں دو سال قید یا ایک لاکھ روپے جرمانے کی دفعات تھیں۔ نئے بل میں پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا ہے۔ گاڑی کو صرف انسپیکشن سٹیشن تک چلانے کی اجازت ہوگی۔پبلک سروس گاڑی میں حد سے زائد مسافر پر پہلے چھ ماہ قید یا پچاس ہزار روپے کی سزا تھی، اب پانچ ہزار روپے جرمانہ۔ خاص طور پر چھت پر سوار مسافروں یا گاڑی کے اطراف لٹکنے والوں پر یہ لاگو ہوگا۔ اس حوالے سے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ پیپلزپارٹی عوامی جماعت ہے،عوام پہلے ہی مہنگائی سے تنگ ہیں اور ٹریفک قوانین کی مد میں اضافی جرمانے مناسب نہیں،پیپلزپارٹی نے ہمیشہ عوامی خدمت کے فیصلے کئے۔موجودہ بل میں جرمانوں اور سزائوں میں ترمیم سے غریب افراد، موٹر سائیکل سوار ،رکشہ ڈرائیوروں کا ریلیف دیا گیا ہے۔پرانے آرڈیننس میں غریب مختلف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانے غریب لوگوں پر بہت بڑا ظلم تھا۔ واضح رہے کہ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کے دستخط کے بعد پراونشل موٹر وہیکل (فورتھ امینڈمنٹ) آرڈیننس 2025ء منسوخ ہو گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…