جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ہراسانی کیس میں سزا کیخلاف اپیل ملزم کو مہنگی پڑ گئی، وفاقی محتسب نے مزید سخت فیصلہ سنادیا

datetime 5  مئی‬‮  2026 |

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی نے ورک پلیس پر خواتین کو ہراساں کرنے کے کیس میں ملزم کی سزا جبری ریٹائرمنٹ سے بڑھاکر ملازمت سے برطرفی میں تبدیل کردی۔

وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت فوزیہ وقار نے محکمانہ کارروائی کیخلاف راولپنڈی میں سرکاری ملازم کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے سزا کو جبری ریٹائرمنٹ سے بڑھا کر فوری طور پر ملازمت سے برطرفی میں تبدیل کردیا۔فوسپاہ کے مطابق ایک سرکاری محکمے کی سولہ خواتین ملازمین نے بار بار ہراسگی کے واقعات کی شکایات درج کرائی، محکمانہ انکوائری نے الزامات کو درست قرار دیتے ہوئے ملوث افسر کی جبری ریٹائرمنٹ کی سزا تجویز کی جسے مجاز اتھارٹی نے نافذ کیا۔فوسپاہ کے مطابق اپیل کی سماعت کے دوران فوسپاہ نے مکمل ریکارڈ کا جائزہ لیا اور انکوائری کے نتائج کو برقرار رکھا، اپیل کنندہ کو دفاع کا مکمل موقع فراہم کیا گیا۔

اپیل کنندہ نے ایک خاتون ساتھی کے ساتھ غیر ارادی جسمانی تعامل کا اعتراف بھی کیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ ہراسگی کا تعین ملزم کے ارادے کے بجائے متاثرہ فرد پر پڑنے والے اثرات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، بار بار کے واقعات کے بعد جبری ریٹائرمنٹ کی سزا ناکافی تھی لہٰذا سزا کو بڑھا کر ملازمت سے برطرفی میں تبدیل کردیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…