جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

اینٹی کرپشن کے ہاتھوں گرفتار کنٹرولر میرپور خاص بورڈ کے نت نئے انکشافات

datetime 4  مئی‬‮  2026 |

کراچی (این این آئی) اینٹی کرپشن کے ہاتھوں گرفتار کنٹرولر میرپور خاص بورڈ نے دوران تفتیش نت نئے انکشافات کیے ہیں۔

اینٹی کرپشن کے نوٹسز میں الزام عائد کیا گیا کہ قلیل عرصے میں سندھ کے تعلیمی بورڈز سے محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کو 20 کروڑ روپے رشوت کے طور پر پہنچائے گئے، 20 کروڑ کی رقم نتائج کی تبدیلی، امتحانی و انتظامی ریکارڈز میں ہیر پھیر اور ٹرانسفر/ پوسٹنگ کی مد میں پہنچائی گئی۔ رقم تعلیمی بورڈز نے ایک ڈپٹی سیکریٹری فرحان اختر کے ذریعے سیکریٹری بورڈ اینڈ یونیورسٹیز تک پہنچائی۔اینٹی کرپشن کے مطابق میٹرک و انٹر بورڈز کراچی سے 7 کروڑ ، سکھر بورڈ سے 4 کروڑ، حیدر آباد بورڈ سے 4 کروڑ اور شہید بینظیر آباد بورڈ (نوابشاہ)سے 5 کروڑ کی رقم پہنچائی گئی۔انکوائری کے لیے محکمہ اینٹی کرپشن نے سیکریٹری و چیئرمین میٹرک بورڈ کراچی، چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی، چیئرمین سکھر بورڈ زاہد علی چنڑ ، چیئرمین نوابشاہ بورڈ آصف میمن کو نوٹسز جاری کیے۔سابق ڈپٹی سیکرٹری فرحان اختر ، سیکریٹری نوابشاہ بورڈ،سیکشن افسر محمد زبیر کتبر، کنٹرولر سکھر ، لاڑکانہ اور حیدرآباد بورڈ کو بھی نوٹسز جاری کیے گئے جبکہ اینٹی کرپشن تین سابق چیئرمینز میرپورخاص بورڈ اور متعلقہ وزیر کے پرسنل سیکریٹری کو بھی طلب کرچکا ہے۔

اینٹی کرپشن نوتس کے مطابق نوابشاہ بورڈ میں پری میڈیکل ایک طالبہ کو یکے بعد دیگرے دو مارک شیٹس جاری ہوئیں، پہلی مارک شیٹ میں 500 میں سے 362 جبکہ دوسری میں 497 مارکس دیے گئے۔سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز عباس بلوچ سے پہلے ہی ریکارڈ مانگا جاچکا ہے، عباس بلوچ گریڈ 20 کے سیکریٹری ہیں اس لیے نچلے گریڈ کے انکوائری افسر کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…