بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کیلیے بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

datetime 17  اپریل‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کی درخواست سی پی پی اے کی جانب سے نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بجلی کی قیمت میں 26 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔ یہ اضافہ مارچ کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مانگا گیا ہے۔اس حوالے سے سی پی پی اے کی جانب سے دائر درخواست پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا) 28 اپریل کو سماعت کرے گا، جس میں قیمتوں میں ممکنہ اضافے کی درخواست کا جائزہ لیا جائے گا۔سی پی پی اے کے مطابق مارچ کے دوران 8 ارب 93 کروڑ 90 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی۔ ڈسکوز کو 8 ارب 64 کروڑ 40 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی جب کہ مارچ کے لیے ریفرنس لاگت 7.99 روپے فی یونٹ مقرر تھی۔اعداد و شمار کے مطابق بجلی کی پیداوار میں مختلف ذرائع کا حصہ شامل رہا، جن میں پانی سے 23.55 فیصد، مقامی کوئلے سے 16.76 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔ اسی طرح درآمدی کوئلے سے 13.80 فیصد اور درآمدی ایل این جی سے 5.64 فیصد بجلی پیدا ہوئی۔

سی پی پی اے کے مطابق فرنس آئل سے 1.02 فیصد اور مقامی گیس سے 11.34 فیصد بجلی پیدا کی گئی، جبکہ مارچ میں جوہری ایندھن سے 21.95 فیصد بجلی حاصل کی گئی۔ مزید برآں ہوا سے 3.46 فیصد اور سولر سے 1.18 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔درخواست کے مطابق بجلی کی قیمت میں مجوزہ اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک پر بھی ہوگا، جس کے بعد پہلے ہی مہنگائی کے ستائے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…