جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

اینکر جمیل فاروقی پر سرگودھا میں مبینہ تشدد، پورے جسم پر 19 ٹانکے لگے، ٹیم کا دعویٰ

datetime 17  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سرگودھا میں اینکر پرسن جمیل فاروقی پر مبینہ تشدد کے واقعے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے،

جہاں ایک جانب ان پر حملے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف ان کی اہلیہ کے سنگین الزامات بھی سامنے آ گئے ہیں۔ابتدائی طور پر جمیل فاروقی کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور فائرنگ بھی کی گئی۔ دعویٰ کیا گیا کہ سرگودھا میں طارق مسعود نامی شخص نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان پر حملہ کیا اور اس دوران ویڈیوز بھی بنائی گئیں۔بعد ازاں ایک اور پیغام میں بتایا گیا کہ حملہ آوروں نے ان پر راڈز اور کلاشنکوف کے بٹ سے تشدد کیا، جس کے نتیجے میں ان کے جسم پر 19 ٹانکے لگے۔ ان کی ٹیم کا کہنا تھا کہ واقعے کی مکمل تفصیلات جمیل فاروقی کی صحت بہتر ہونے کے بعد سامنے لائی جائیں گی، جبکہ مخالفین کی جانب سے پھیلائے جانے والے بیانات کو پروپیگنڈا قرار دیا گیا۔دوسری جانب اس معاملے نے اس وقت مزید سنگینی اختیار کر لی جب جمیل فاروقی کی اہلیہ کا بیان منظر عام پر آیا۔ انہوں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ دو ماہ سے اسلام آباد میں اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی تھیں اور اس دوران انہیں مبینہ طور پر مسلسل تشدد کا سامنا رہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اب اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی خواہش نہیں رکھتیں اور اپنے والدین کے پاس جانا چاہتی ہیں۔سوشل میڈیا پر بھی مختلف دعوے گردش کر رہے ہیں،

جن میں کہا جا رہا ہے کہ جمیل فاروقی اپنی اہلیہ کو موبائل فون رکھنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ تاہم کچھ حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان صرف جھگڑا ہوا تھا اور تشدد کے الزامات درست نہیں، جبکہ حملے کے دعوے کو دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔تاحال ان تمام دعوؤں اور الزامات کی کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی، جس کے باعث معاملہ مزید تحقیقات کا متقاضی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…