جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

صوبائی حکومت کا بڑا فیصلہ: میٹرک و انٹر امتحانات میں نقل کرنے والے طلبا پر تاحیات پابندی

datetime 17  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سندھ حکومت نے امتحانات میں نقل کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے طلبہ اور عملے کو واضح انتباہ جاری کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق نقل میں ملوث طلبہ کو بورڈ امتحانات سے مستقل طور پر نااہل بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومت نے ایک جامع اور سخت حکمت عملی مرتب کی ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم سردار شاہ اور وزیر بورڈز و جامعات محمد اسماعیل راہو نے مشترکہ بیان میں نقل کے خلاف “زیرو ٹالرنس پالیسی” نافذ کرنے کا اعلان کیا۔نئے ضوابط کے تحت اگر کوئی طالب علم نقل کرتے ہوئے پکڑا گیا تو اس کے تمام پرچے فوری طور پر منسوخ کر دیے جائیں گے اور اسے مستقبل میں بورڈ امتحانات میں شرکت سے بھی روکا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی طالب علم کے پاس موبائل فون یا نقل کا مواد پایا گیا تو اسے امتحانی مرکز سے فوراً نکال دیا جائے گا اور آئندہ امتحانات میں بیٹھنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔حکومت نے امتحانی عملے کو بھی خبردار کیا ہے کہ نقل میں کسی بھی قسم کی معاونت یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

اگر کوئی انویجیلیٹر یا متعلقہ افسر اس عمل میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے ملازمت سے برطرف کیا جا سکتا ہے۔مزید برآں، امتحانی مراکز پر نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو روکا جا سکے۔صوبائی وزراء کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے نقل کے رجحان کا خاتمہ ناگزیر ہے، اور اس سلسلے میں کسی بھی دباؤ یا رعایت کے بغیر سخت کارروائی کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…