اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے گریز کرتے ہوئے ترقیاتی اخراجات میں کمی کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے،
جس سے عوام کو ممکنہ ریلیف ملنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت مالی دباؤ کم کرنے اور قیمتیں برقرار رکھنے کے لیے جاری مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں تقریباً 100 ارب روپے کی کٹوتی پر غور کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھنا اور عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے سے بچنا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 55 اور 75 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز زیر غور تھی، تاہم اب اس کے بجائے قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا امکان زیادہ ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ مجموعی ترقیاتی بجٹ کو ایک ہزار ارب روپے سے کم کر کے تقریباً 900 ارب روپے تک لایا جا سکتا ہے، جبکہ جاری منصوبوں کے فنڈز میں بھی تقریباً 10 فیصد کمی کی جائے گی۔
حکومت کا منصوبہ ہے کہ بچائی جانے والی رقم کو ہنگامی ریلیف اقدامات اور عوامی فلاحی منصوبوں پر خرچ کیا جائے، تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور معاشی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔



















































