بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی سے نکاح کیلئے آنے والا نوجوان حیدرآباد میں لٹ گیا، دلہن اور ساتھی نقدی و کپڑے لے کر فرار

datetime 6  مارچ‬‮  2026 |

حیدرآباد(این این آئی)نکاح کے نام پر فراڈ کا ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں کراچی سے شادی کے لیے آنے والا نوجوان اپنے والدین کے ہمراہ دھوکے کا شکار ہو گیا۔

پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ جی او آر کی حدود جمالی پاڑہ کچی آبادی میں پیش آیا۔ متاثرہ نوجوان محمد عثمان ولد رمضان راجپوت، جو کراچی کے علاقے سیکٹر 13 نواب کالونی بلدیہ ٹائون کا رہائشی ہے نے پولیس کو بتایا کہ اس کی والدہ اس کے لیے رشتہ تلاش کر رہی تھیں۔مدعی کے مطابق رانی نامی خاتون زوجہ عباس چانڈیو نے ان سے رابطہ کیا اور حیدرآباد بلا کر ندا نامی لڑکی سے شادی طے کروائی۔طے شدہ تاریخ پر محمد عثمان اپنے والدین اور بھائیوں کے ہمراہ حیدرآباد پہنچا اور رانی کے گھر نکاح کی تیاریاں شروع ہوئیں۔متاثرہ نوجوان کے مطابق غربت کا ذکر کرنے پر لڑکی کے مبینہ والدین نے شادی کے ضروری سامان کے لیے ڈھائی لاکھ روپے نقد مانگے جو انہیں دے دیے گئے،

جبکہ دو لاکھ روپے مالیت کے نئے کپڑے بھی دلہن کو فراہم کیے گئے۔تاہم رقم اور کپڑے لینے کے بعد لڑکی اور اس کے ساتھی اچانک گھر سے غائب ہو گئے۔ جب متاثرہ خاندان نے علاقے میں معلومات کیں تو معلوم ہوا کہ لڑکی اور اس کے ساتھی ایک فراڈی ٹولے سے تعلق رکھتے ہیں جو اسی طرح لوگوں کو نکاح کے نام پر دھوکہ دیتے ہیں۔پولیس نے محمد عثمان کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے کارروائی کرتے ہوئے تین خواتین کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ اس فراڈ میں ملوث مزید پانچ افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…