بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے پر راضی تھی، ذرائع پی ٹی آئی

datetime 26  فروری‬‮  2026 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کی غرض سے اسپتال منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی،

تاہم معالجین کے انتخاب پر اتفاق نہ ہونے کے باعث یہ اقدام مؤخر ہو گیا۔نجی ٹی وی جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ عمران خان کو کم از کم دس روز کے لیے شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں رکھا جائے۔ حکومت بھی مکمل علاج کی غرض سے اسپتال منتقلی پر تیار تھی، مگر اس کی شرط تھی کہ علاج سے متعلق معلومات عام نہیں کی جائیں گی اور نہ ہی کارکنوں کو اسپتال بلانے کی اجازت ہوگی۔ذرائع کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب منتقلی کے انتظامات مکمل کر لیے گئے تھے، حتیٰ کہ پارٹی قیادت کی آمد و رفت کے لیے گاڑیاں بھی تیار تھیں۔ اہل خانہ سے مشاورت کے بعد معالجین کے نام طلب کیے گئے۔ ابتدا میں عمران خان کی بہنوں نے ڈاکٹر عاصم اور ڈاکٹر عظمی کے نام تجویز کیے، مگر حکومت نے ان ناموں سے اتفاق نہیں کیا۔ بعد ازاں ڈاکٹر برکی کا نام پیش کیا گیا، جو قبول نہ کیا گیا۔

حکومتی حلقوں کی جانب سے ڈاکٹر قاسم زمان کا نام سامنے آیا، تاہم اس پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا اور یوں معاملہ طے نہ ہو سکا۔ اتوار کی شب حکومت نے اعلان کیا کہ فی الحال اسپتال منتقلی ممکن نہیں رہی۔دوسری جانب پارٹی رہنماؤں نے پمز اسپتال کے ڈاکٹروں سے ملاقات کی اور اس امر کی یقین دہانی حاصل کی کہ ملاقات کی تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق علیمہ خان، بیرسٹر گوہر کی جانب سے ڈاکٹروں سے رابطے پر ناراضی کا اظہار کر رہی تھیں اور اطلاعات ہیں کہ وہ پارٹی قیادت کے خلاف بنی گالہ میں پریس کانفرنس کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…