بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

18 سال سے کم عمر افراد کی شادی جرم قرار، نیا آرڈیننس جاری

datetime 21  فروری‬‮  2026 |

لاہور(این این آئی) حکومت پنجاب نے صوبے میں کم عمری کی شادی کے خلاف سخت اقدامات کرتے ہوئے نیا چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس جاری کر دیا

جس کے تحت 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی کو قابل سزا جرم قرار دے دیا گیاہے۔آرڈیننس کے مطابق اگر کوئی نکاح رجسٹرار کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی رجسٹر کرے گا تو اسے ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا سامنا کرنا ہوگا، اسی طرح 18 سال سے زائد عمر کا کوئی بھی شخص اگر کم عمر لڑکی سے نکاح کرے گا تو اسے کم از کم دو سال قید کی سزا دی جائے گی جبکہ کم عمری کی شادی میں ملوث بالغ شخص کو پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ بھی کیا جا سکے گا۔نئے قانون کے تحت شادی کے بعد کم عمر بچے یا بچی کے ساتھ رہائش یا ازدواجی تعلقات کو چائلڈ ابیوز قرار دیا گیا ، اس جرم پر پانچ سے سات سال قید اور کم از کم دس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

مزید برآں، کم عمر بچوں کو شادی کی غرض سے پنجاب سے باہر لے جانا چائلڈ ٹریفکنگ تصور ہوگا جس پر پانچ سے سات سال قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے، والدین یا سرپرست کی جانب سے کم عمری کی شادی کرانے کی صورت میں دو سے تین سال قید کی سزا دی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…