بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

تمام ڈگری پروگرامز میں اے آئی مضمون متعارف کرانے کا فیصلہ

datetime 19  فروری‬‮  2026 |

اسلام آباد(این این آئی) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ملک بھر کی سرکاری و نجی جامعات کو ہدایت کی ہے کہ

وہ تمام انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری پروگرامز میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) پر مشتمل تین کریڈٹ آورز کا لازمی کورس شامل کریں۔یہ فیصلہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی تعلیمی اور ٹیکنالوجی منظرنامے کے تناظر میں کیا گیا جہاں اے آئی تعلیم، صحت، معیشت اور طرز حکمرانی سمیت مختلف شعبوں میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔جامعات کے سربراہوں کو لکھے گئے خط میں ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہاکہ اے آئی کی تعلیم محض اضافی سہولت نہیں بلکہ وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے، طلبہ کو ڈیجیٹل خواندگی، اخلاقی ذمہ داری، ڈیٹا پرائیویسی، شفافیت اور سماجی اثرات جیسے پہلوؤں کی عملی سمجھ دینا ناگزیر ہے تاکہ وہ عالمی معیارات کے مطابق مہارتیں حاصل کر سکیں۔خط میں واضح کیا گیا کہ جامعات یہ کورس بطور اختیاری مضمون، بین الشعبہ جاتی کورس یا پروگرام کے اندر معاون مضمون کے طور پر پیش کر سکتی ہیں،

نصاب میں اے آئی کے بنیادی تصورات، مختلف شعبوں میں اطلاق، اخلاقی تقاضے، انصاف اور احتساب کو شامل کرنا لازم ہوگا جب کہ جامعات کو پروگرام کی نوعیت کے مطابق مواد میں تخصیص کی اجازت بھی دی گئی ہے۔خط میں کہا گیاکہ یہ کورس تعلیمی سیشن خزاں 2026 سے تمام ڈگری پروگرامز میں نافذ کیا جائے گا، اس اقدام کا مقصد پاکستانی طلبہ کو اے آئی سے ہم آہنگ دنیا میں موثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانا اور قومی معیشت کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…