بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد میں خودکش حملہ کرنیوالا پاکستانی شہری تھا،رشتے داروں تک پہنچ گئے ہیں: خواجہ آصف

datetime 7  فروری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والا خودکش حملہ ایک پاکستانی شہری نے کیا، جو کچھ عرصہ قبل افغانستان گیا تھا۔

ان کے مطابق حملہ آور گزشتہ روز یا آج نوشہرہ سے وفاقی دارالحکومت پہنچا، جبکہ سیکیورٹی ادارے اس کے اہلِ خانہ تک بھی رسائی حاصل کر چکے ہیں۔جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اس حملے کا مقصد ملک کے امن اور ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنا تھا۔وزیرِ دفاع نے کہا کہ دہشت گردی کے لیے ایک ایسا وقت منتخب کیا گیا جب پاکستان نے دو ممالک کے ساتھ اہم معاہدے طے کیے، جو اس سازش کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے اور اب بھارت افغان سرزمین کو استعمال کر کے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔خواجہ آصف کے مطابق اس خودکش حملے میں 31 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ تقریباً 150 افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح پاکستان نے بھارت کو شکست دی، اسی طرح اس کے پراکسی نیٹ ورکس کو بھی ناکام بنایا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان رابطہ موجود ہے، اور بظاہر اب خیبرپختونخوا حکومت بھی اس جنگ کی ذمہ داری سنبھال رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…