ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ٹی 20 ورلڈکپ: پاک بھارت میچ نہ ہونے سے بھارتی براڈ کاسٹرز کو کتنا نقصان ہوگا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 2  فروری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان نے قومی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کی اجازت دے دی ہے، تاہم بنگلہ دیش سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر پاکستان ٹیم 15 فروری کو بھارت کے خلاف طے شدہ میچ نہیں کھیلے گی اور اس مقابلے کا باضابطہ بائیکاٹ کرے گی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں بھارتی براڈکاسٹرز کو بھاری مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔پاک بھارت کرکٹ مقابلہ دنیا کے بڑے اور مہنگے ترین اسپورٹس ایونٹس میں شمار ہوتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اگر پاکستان ٹیم بھارت کے خلاف میدان میں نہ اتری تو بھارتی نشریاتی اداروں کو تقریباً 500 ملین ڈالرز، یعنی 141 ارب روپے کے قریب نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، جبکہ میچ کی ٹکٹوں سے حاصل ہونے والی آمدن میں کمی کے باعث آئی سی سی کو بھی لاکھوں ڈالرز کا خسارہ ہونے کا امکان ہے۔اندازوں کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی مجموعی آمدن کا تقریباً نصف حصہ پاک بھارت میچ سے حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کو ہر سال آئی سی سی کی جانب سے تقریباً 35 ملین ڈالرز کا حصہ ملتا ہے، تاہم براڈکاسٹرز کو ہونے والے ممکنہ نقصان کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی کی طرف سے قانونی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے باوجود پاکستان کے دوسرے مرحلے میں رسائی کے امکانات اب بھی برقرار ہیں۔حکومتی ذرائع کے مطابق بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کی بنیادی وجہ بنگلہ دیش کے معاملے پر آئی سی سی کا مبینہ جانبدارانہ رویہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی چیئرمین جے شاہ کے فیصلوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو عملی طور پر انڈین کرکٹ کونسل بنا دیا ہے۔واضح رہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے 7 فروری سے بھارت اور سری لنکا میں شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے دوران سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنی ٹیم بھارت بھیجنے سے انکار کیا تھا، جس پر پاکستان نے بنگلہ دیش کے مؤقف کی حمایت کی تھی۔تاہم آئی سی سی نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے اعتراضات کو قبول نہیں کیا اور بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں شامل کر لیا۔ آئی سی سی کی مبینہ بھارت نواز پالیسیوں اور بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کرنے پر پاکستان نے سخت ردعمل اختیار کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…