ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ شروع ہونے سے قبل نیا تنازع کھڑا ہوگیا

datetime 31  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور عالمی کھلاڑیوں کی نمائندہ تنظیم ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن (ڈبلیو سی اے) کے درمیان کھلاڑیوں کے حقوق کے معاملے پر اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔تنازع کی بنیاد کھلاڑیوں کے نام، تصویر اور شناخت (NIL) کے حقوق کے ساتھ ساتھ کمرشل اور ڈیٹا سے متعلق شرائط ہیں۔

ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے مختلف ممالک کے کھلاڑیوں کو بھیجے گئے اسکواڈ شرکت کے معاہدے 2024 میں طے پانے والے باہمی معاہدے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ تنظیم کے مطابق نئی شرائط نہ صرف غیر منظور شدہ ہیں بلکہ کھلاڑیوں کے مفادات کے خلاف بھی ہیں۔ڈبلیو سی اے کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں کھلاڑیوں کے حقوق کو محدود کرتی ہیں اور انہیں استحصالی شرائط کے تحت کھیلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب آئی سی سی نے وضاحت دی ہے کہ 2024 کا معاہدہ صرف آٹھ رکن بورڈز—آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز، آئرلینڈ، نیدرلینڈز اور اسکاٹ لینڈ—تک محدود ہے، جبکہ دیگر کرکٹ بورڈز اس کے پابند نہیں ہیں۔اس کے برعکس ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ قانونی طور پر تمام وابستہ کھلاڑیوں پر لاگو ہوتا ہے، چاہے وہ اس عالمی ایونٹ میں شریک ہوں یا نہ ہوں۔ڈبلیو سی اے کے چیف ایگزیکٹو ٹام موفات نے کھلاڑیوں کو بھیجے گئے ایک میمو میں آئی سی سی کی شرائط اور 2024 کے معاہدے کے درمیان آٹھ بنیادی اختلافات کی نشاندہی کی ہے۔

ان میں میڈیا سرگرمیوں میں شرکت، کھلاڑیوں کے کمروں تک رسائی، ڈیٹا کا استعمال، لائسنسنگ، NIL حقوق اور تنازعات کے حل کا طریقہ کار شامل ہیں۔موفات کے مطابق آئی سی سی کی نئی شرائط کے تحت کھلاڑیوں کو اپنی شناختی حقوق کسی بھی تیسرے فریق کو لائسنس دینے پر آمادہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ہر استعمال کے لیے قومی بورڈ کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس کے برعکس 2024 کے معاہدے میں کھلاڑیوں کو زیادہ خودمختاری حاصل تھی اور وہ ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کے ذریعے اپنی شرائط طے کر سکتے تھے۔ڈیٹا کے معاملے میں بھی دونوں دستاویزات میں واضح فرق موجود ہے۔ آئی سی سی کے مطابق ڈیٹا کو بورڈ کی اجازت سے تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ 2024 کے معاہدے میں ڈیٹا کی ملکیت کھلاڑیوں کو حاصل ہے اور اس کے استعمال کے لیے ان کی رضامندی ضروری ہے۔

مزید یہ کہ آئی سی سی کی شرائط میں دستخط نہ کرنے کے باوجود کھلاڑیوں کو شرائط کا پابند سمجھا جا سکتا ہے، جب کہ سابقہ معاہدے میں ہر ایونٹ کے لیے علیحدہ دستخط لازمی تھے۔ٹام موفات نے الزام عائد کیا کہ آئی سی سی اور بعض رکن بورڈز نے جان بوجھ کر 2024 کے معاہدے میں دیے گئے تحفظات ختم کیے ہیں اور کمزور و کم معاوضہ پانے والے کھلاڑیوں کو نئی شرائط کے تحت کھیلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ وہ کھلاڑیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے 2024 کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کرتی رہے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…