بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

پولیس افسران نے مجھ پر تشدد کیا او ربیوی کو قتل کرنے کا اعتراف کرنے کیلئے دباؤ ڈالتے رہے: غلام مرتضیٰ

datetime 30  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں سیوریج لائن میں گر کر جان کی بازی ہارنے والی خاتون اور کم سن بچی کے لواحقین نے پولیس پر سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔ متاثرہ خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد پولیس نے مدد فراہم کرنے کے بجائے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی اعتراف جرم پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے غلام مرتضیٰ نے بتایا کہ جیسے ہی انہیں اپنی اہلیہ اور بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کا علم ہوا، وہ فوری طور پر تھانے پہنچے تاکہ اطلاع دے سکیں، تاہم پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ ان کے مطابق ایس پی بلال اور ایس ایچ او زین نے ان پر تشدد کیا اور ان کے بیانات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔

غلام مرتضیٰ نے کہا کہ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ کسی قسم کے جھگڑے میں ملوث نہیں تھے بلکہ اہلِ خانہ کے ساتھ سیر کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے بیوی اور بچی کو نالے میں گرتے دیکھا، مگر افسران نے ان کی بات پر یقین نہیں کیا اور الزام لگایا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے ان کا موبائل فون بھی ضبط کر لیا جبکہ واقعے کے وقت ان کا ایک بیٹا والدہ کے ساتھ موجود تھا۔

متاثرہ شوہر کا الزام ہے کہ پولیس افسران بار بار دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ یہ تسلیم کرے کہ اس نے اپنی بیوی اور بچی کو قتل کیا ہے۔ غلام مرتضیٰ کے مطابق پولیس نے ان کے کزن تنویر کو بھی حراست میں رکھا ہوا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ، داتا دربار کے قریب ایک خاتون اور اس کی بچی سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھیں۔ ابتدائی طور پر پولیس اور دیگر اداروں نے اس واقعے کی تردید کی اور کہا کہ ایسا کوئی حادثہ پیش نہیں آیا، تاہم تقریباً دس گھنٹے بعد دونوں کی لاشیں جائے وقوعہ سے تقریباً تین کلومیٹر دور سے برآمد ہوئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…