بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

بسنت: موٹرسائیکل سواروں کیلئے نئے قانون کا اعلان

datetime 20  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آئندہ ماہ لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹیول منعقد کیا جائے گا، جس کے لیے ضلعی انتظامیہ نے سکیورٹی اور حفاظتی انتظامات کا اعلان کر دیا ہے۔ ان اقدامات میں سب سے اہم فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ بسنت کے دوران تمام موٹر سائیکلوں پر سیفٹی راڈز لگانا لازمی ہوگا۔لاہور کی کمشنر مریم خان کے مطابق ’’محفوظ بسنت‘‘ کا انعقاد 6، 7 اور 8 فروری کو صرف لاہور کے اضلاع کی حدود تک محدود ہوگا۔ انہوں نے یہ بات ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بتائی، جس میں پتنگ بازی سے وابستہ تنظیموں، پولیس افسران اور انتظامیہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔کمشنر نے وضاحت کی کہ پتنگ بازی آرڈیننس 2025 کے تحت فیسٹیول کے دوران بغیر سیفٹی راڈز کے موٹر سائیکل چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس مقصد کے لیے شہر بھر میں 100 روڈ سیفٹی کیمپس قائم کیے جائیں گے، جہاں اندازاً 10 لاکھ موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈز نصب کیے جائیں گے۔انتظامیہ کے مطابق ہر کیمپ روزانہ تقریباً 50 سے 60 ہزار موٹر سائیکلوں پر سیفٹی راڈز لگانے کی صلاحیت رکھے گا۔ مریم خان نے واضح کیا کہ 6 فروری سے قبل پتنگ بازی پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ پتنگوں اور اس سے متعلق سامان کی تیاری صرف لاہور کے اندر کی جا سکے گی، جبکہ پتنگوں کی فروخت یکم فروری سے شروع ہو کر 8 فروری تک جاری رہے گی۔کمشنر نے خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت کارروائی کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اب تک غیر قانونی پتنگ بازی پر 204 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف وہی مینوفیکچررز، تاجر اور دکاندار کام کرنے کے اہل ہوں گے جو رجسٹرڈ ہوں اور جن کے پاس این او سی موجود ہو۔مریم خان نے پتنگ بازی ایسوسی ایشنز اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ محفوظ بسنت کے کامیاب انعقاد کے لیے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…