بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

فیشن ڈیزائنر ماریہ بی کا ایک بار پھر پاکستانی ڈراموں میں ٹرانس جینڈر کرداروں کی پیشکش پر سخت ردعمل

datetime 19  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آبا د (نیوز ڈ یسک) معروف فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے ایک مرتبہ پھر پاکستانی ڈراموں میں ٹرانس جینڈر کرداروں کی نمائندگی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ حالیہ بیان میں انہوں نے ڈرامہ ’’میری زندگی ہے تو‘‘ کی ٹیم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ڈراموں کے ذریعے بتدریج ایل جی بی ٹی نظریات کو عام کیا جا رہا ہے۔سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں ماریہ بی نے ڈرامے کی 19ویں قسط کا حوالہ دیتے ہوئے ایک مکالمہ دہرا کر کہا کہ اس منظر میں ایک ایسے کردار کو دکھایا گیا ہے جو پیدائشی طور پر مرد ہے مگر لڑکیوں کے کالج کے ماحول میں خواتین کے درمیان موجود نظر آتا ہے۔

ان کے مطابق یہ منظر قابلِ اعتراض ہے اور اسے جان بوجھ کر اس انداز میں پیش کیا گیا کہ ناظرین کی توجہ نہ جائے، تاہم عوام نے اس پہلو کو فوری طور پر محسوس کر لیا۔ماریہ بی نے سوال اٹھایا کہ کیا ڈرامہ سازوں کے پاس خواتین اداکارائیں دستیاب نہیں تھیں یا پھر سوچ سمجھ کر ایک بائیولوجیکل مرد کو خواتین کے کرداروں کے درمیان شامل کیا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ اس طرزِ پیشکش سے نہ صرف خواتین کے حقوق متاثر ہوتے ہیں بلکہ اداکاراؤں کے روزگار کے مواقع بھی کم ہوتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے کئی ممالک، بالخصوص امریکا میں، ایسے معاملات کے باعث سنگین مسائل جنم لے چکے ہیں، اس لیے ان موضوعات کو معمول کے طور پر پیش کرنا معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماریہ بی کے اس مؤقف پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں متعدد صارفین نے ان کی بات کو جرات مندانہ قرار دیا، جبکہ بعض افراد نے ان کی رائے سے اختلاف بھی کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…