بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

ڈکی بھائی کے لرزہ خیز انکشافات نے سوشل میڈیا پرطوفان برپا کردیا

datetime 8  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)مشہور یوٹیوبر سعد الرحمٰن، جنہیں ڈکی بھائی کے نام سے جانا جاتا ہے، نے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (NCCIA) کے اہلکاروں کے خلاف سنگین دعوے کرتے ہوئے ایک تفصیلی ویڈیو جاری کی جس نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا۔ شوبز کی معروف شخصیات اور مداحوں کی بڑی تعداد نے اس واقعے پر شدید احتجاج کا اظہار کیا ہے۔ڈکی بھائی کی جانب سے اپ لوڈ کی گئی 1 گھنٹے سے زائد دورانیے کی ویڈیو میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں این سی سی آئی اے کی تحویل میں جسمانی اور ذہنی طور پر اذیت دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر شعیب ریاض نے ان کا موبائل فون اور بائننس اکاؤنٹ قبضے میں لے کر ان کے کروڑوں روپے کے کرپٹو اثاثے نقصان میں بند کرنے کے بعد 3 لاکھ 26 ہزار ڈالر اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر لیے۔ڈکی بھائی کے مطابق جب انہوں نے اس رقم کے بارے میں سوال کیا تو جواب ملا کہ “کام حل کروانا ہے یا نہیں؟” معاملہ افشا ہونے پر افسران نے گھبراہٹ میں عدالت میں یہ رقم برآمدگی ظاہر کر دی۔

یاد رہے کہ سعد الرحمٰن کو اگست میں لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر الزام تھا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے آن لائن جوئے کی ایپس کو فروغ دیتے ہیں۔ 25 نومبر کو انہیں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت منظور ہوئی مگر اس کے باوجود انہیں کچھ عرصہ سرکاری تحویل میں رکھا گیا۔ اسی دوران این سی سی آئی اے لاہور کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ڈکی بھائی نے اپنی ویڈیو میں دعویٰ کیا کہ حراست کے دوران سرفراز چوہدری سمیت متعدد اہلکاروں نے انہیں گالیاں دیں، مارا پیٹا اور بار بار ان سے پیسے دینے کا مطالبہ کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے بتایا کہ ان کی آمدن یوٹیوب سے ہوتی ہے اور ان کے 8 ملین سبسکرائبرز ہیں تو ان پر بچوں کو گمراہ کرنے کے الزامات بھی لگائے گئے۔ان کے مطابق بعض افسران نے 7 سے 8 کروڑ روپے کے بدلے معاملہ ختم کرنے کی پیشکش کی۔ جبکہ ایک اور الزام میں انہوں نے بتایا کہ اپنی اہلیہ عروب کا نام ایف آئی آر سے نکلوانے کے لیے انہیں 60 لاکھ روپے دینے پر مجبور کیا گیا۔ڈکی بھائی کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے پہلے ہی دن وہ انتہائی بے یار و مددگار تھے اور مکمل تعاون کے باوجود ان پر ظلم کیا جاتا رہا۔

انہوں نے کہا کہ جب ان کے کسی جاننے والے نے گارڈز سے درخواست کی کہ تشدد کم کیا جائے تو انہیں مزید مارا گیا۔ان الزامات کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین، عوام اور شوبز شخصیات نے شدید ردعمل دیا ہے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…