پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

بیرونِ ممالک سے لائے جانیوالے موبائل فونز پر کتنا ٹیکس عائد؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

datetime 5  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)حکومت نے بیرونِ ملک سے پاکستان لائے جانے والے نئے اور استعمال شدہ موبائل فونز پر عائد ٹیکس اور ڈیوٹی کی تفصیلات باضابطہ درج کر دی ہیں۔نجی ٹی وی چینل “ہم نیوز” کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا ہے کہ موبائل فونز پر کسٹم ڈیوٹی، موبائل لیوی، ریگولیٹری ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس مختلف شرائط کے مطابق عائد کیے جاتے ہیں۔FBR نے کہا ہے کہ فون کی اصل قیمت کا تعین ویلیوایشن رولنگ کے تحت کیا جائے گا، جبکہ اگر کسی ماڈل کی ویلیوایشن موجود نہ ہو تو پچھلے 90 دنوں کے درآمدی ڈیٹا کی بنیاد پر قیمت متعین کی جائے گی۔

اس پالیسی کے تحت 30 ڈالر یا اس سے کم قیمت والے موبائل فونز پر 100 روپے موبائل لیوی، 300 روپے ریگولیٹری ڈیوٹی، 18 فیصد سیلز ٹیکس اور 70 روپے ودہولڈنگ ٹیکس لگایا جائے گا۔30 سے 100 ڈالر مالیت والے فونز پر 200 روپے موبائل لیوی، 3,000 روپے ریگولیٹری ڈیوٹی، 18 فیصد سیلز ٹیکس اور 930 روپے ودہولڈنگ ٹیکس ہوگا۔100 سے 200 ڈالر کی ویلیو والے موبائل فونز پر 600 روپے موبائل لیوی، 7,500 روپے ریگولیٹری ڈیوٹی، 18 فیصد سیلز ٹیکس اور 970 روپے ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

جبکہ 200 سے 350 ڈالر قیمت والے فونز پر 1,800 روپے موبائل لیوی، 11,000 روپے ریگولیٹری ڈیوٹی، 18 فیصد سیلز ٹیکس اور 5,000 روپے ودہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔350 سے 500 ڈالر قیمت والے فونز پر 4,000 روپے موبائل لیوی، 15,000 روپے ریگولیٹری ڈیوٹی، 18 فیصد سیلز ٹیکس اور 5,000 روپے ودہولڈنگ ٹیکس رکھا گیا ہے۔اور 500 ڈالر سے زیادہ قیمت والے موبائل فونز پر ٹیکس سب سے زیادہ ہے — 8,000 روپے موبائل لیوی لاگو ہے، مگر اگر قیمت 700 ڈالر سے تجاوز کرے تو یہ لیوی 16,000 روپے تک پہنچ جاتی ہے، اس کے ساتھ 22,000 روپے ریگولیٹری ڈیوٹی، 25 فیصد سیلز ٹیکس اور 11,500 روپے ودہولڈنگ ٹیکس بھی دینا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…