ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر تھا‘یہ چاہتے تھے پی ٹی آئی کے ٹائیگرز مختلف چھائونیوں پر حملے کریں اور یادگاریں جلاتے ہوئے راولپنڈی پہنچ جائیں ‘ آرمی چیف اس وقت ملک سے باہر تھے‘ فوج میں قیادت کا بحران پیدا ہو جائے گا اور جنرل ساحر شمشاد مرزا کو مجبوراً اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا پڑ جائیں گے اور جوں ہی یہ چارج لیں گے تو سپریم کورٹ جنرل عاصم منیر کو ’’ڈی نوٹی فائی‘‘ کر دے گی اور یوں ملک میں تبدیلی آ جائے گی‘ سپریم کورٹ اس کے بعد عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو غیرقانونی قرار دے دے گی جس کے بعد پی ڈی ایم کی حکومت ختم ہو جائے گی اور عمران خان اقتدار میں واپس آ جائیں گے‘ یہ پلان بظاہر مکمل تھا لیکن جنرل فیض حمید اور عمران خان کی بدقسمتی سے جنرل ساحر شمشاد مرزا حالات کے جھانسے میں نہیں آئے‘ یہ 9مئی کے دن فوج اور آرمی چیف کے ساتھ کھڑے ہو گئے‘ یہ جنرل فیض اور عمران خان کے منصوبے کو ٹھیک ٹھاک جھٹکا تھا‘ دوسری طرف حکومت نے بھی اپنے اعصاب قابو میں رکھے اور تیسری طرف عمران خان کے انقلابی بھی 22یادگاروں پر حملوں کے بعد غائب ہو گئے‘

عمران خان کے ساتھ ایک ہاتھ جنرل فیض حمید بھی کر گئے‘ یہ8 سے 11 مئی تک غائب رہے‘ یہ سمجھ دار انسان ہیں‘ یہ جانتے تھے اگر میں کسی جگہ نظر آ گیا تو بغاوت کی ناکامی کی صورت میں میرا کورٹ مارشل ہو جائے گا یا مجھے آرٹیکل چھ کے تحت سزائے موت ہو جائے گی چناں چہ یہ منظر سے غائب ہو گئے اور عمران خان انہیں ڈھونڈتے ہی رہ گئے‘ آپ کو اگر یاد ہو تو11مئی2023ء کو چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے آئی جی اسلام آباد کو حکم دے کر عمران خان کو عدالت میں بلایاتھا اور انہیں ’’گڈ ٹو سی یو‘‘ کہا تھا اور اس کے بعد آئی جی کو حکم دیا تھا آپ انہیں شایان شان گاڑی میں لے کر جائیں اور گیسٹ ہائوس میں ٹھہرائیں‘ عمران خان کو اس کے بعد بلٹ پروف مرسڈیز میں پولیس کے گیسٹ ہائوس میں لے جایا گیا تھا اور صدر عارف علوی اس رات صدارتی پروٹوکول میں ان کے لیے بکرے کی ران بھون کر لے گئے تھے اور خان صاحب رات گئے پارٹی کے لوگوں کے ساتھ جوکس شیئر کرتے رہے تھے‘ اسی گیسٹ ہائوس سے عمران خان نے مسرت چیمہ کو فون کر کے حکم دیا تھا تم اعظم سواتی سے رابطہ کرو‘ یہ کال بعدازاں لیک ہوئی اور یہ اس وقت بھی یوٹیوب پر پڑی ہو گی‘ اس کال کے اعظم سواتی ہمارے اعظم سواتی نہیں تھے‘ یہ فیض حمید تھے جو 8مئی سے غائب تھے‘ بحران کے ان تین دنوں کے ہیرو جنرل ساحر شمشاد مرزا تھے‘ یہ اگر استقامت اور خلوص کا مظاہرہ نہ کرتے اور پی ٹی آئی کے جھانسے میں آ جاتے تو آج صورت حال مختلف ہوتی‘ آج کے حکمران اس وقت جیل میں چکیاں پیس رہے ہوتے‘ عمران خان اگلے پانچ برسوں کے لیے وزیراعظم بن چکے ہوتے یا پھر ملک میں مارشل لاء لگ چکا ہوتا اور مئی 2025ء میں انڈیا ہمارا بھرکس نکال چکا ہوتا‘ یہ اللہ کا خاص کرم تھا یہ ملک9مئی کو بچ گیا اور فوج نے تین دنوں میں حالات کنٹرول کر لیے ورنہ عمران خان اور جنرل فیض نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔

ملک میں نو مئی ہوا اور پارٹی کی ساری قیادت پکڑی گئی‘ یہ کہانی سب کو معلوم ہے‘ فوج نے سب سے پہلے اندر صفائی کی‘ لیفٹیننٹ جنرل سمیت بے شمار افسر فارغ کیے گئے اور اس کے بعد سویلینز میں صفائی کا عمل شروع ہوگیا اور یہ اب تک جاری ہے‘ جنرل فیض حمید کو اس کے بعد حالات کی نزاکت کا اندازہ ہونا چاہیے تھا لیکن یہ متعدد وارننگز کے باوجود پیچھے نہ ہٹے اور اندر ہی اندر باریک واردات کرتے رہے‘ 22جولائی 2024ء کو پی ٹی آئی کے ڈیجیٹل میڈیا سیل پر چھاپا پڑا‘ پارٹی کے کمپیوٹر اور ڈیٹا قبضے میں لے لیا گیا‘پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات رئوف حسن بھی گرفتار ہو گئے‘ ان کے موبائل فون کا جائزہ لیا گیا تو اس سے جنرل فیض حمید کے مختلف فون نمبر نکل آئے‘ ان کے ساتھ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین ملک کے نمبر بھی تھے۔ پارٹی کے کمپیوٹروں سے بھی بہت کچھ سامنے آ گیا‘ رئوف حسن سمجھ دار نکلے‘ یہ فوراً بول پڑے اور یوں جنرل فیض حمید کے گرد گھیرا تنگ ہوتا چلا گیا‘ اگست 2024ء میں جنرل فیض کو بلا کر تمام ثبوت ان کے سامنے رکھے گئے اور انہیں دو آپشن دیے گئے‘ یہ اپنے جرائم تسلیم کر کے معافی مانگ لیں یا پھر کورٹ مارشل کا سامنا کریں‘ یہ دوسرے آپشن پر چلے گئے اور یوں ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع ہو گئی‘ یہ کارروائی گیارہ ماہ جاری رہی‘ یہ اس لحاظ سے برصغیر پاک وہند میں کسی اعلیٰ فوجی افسر کا طویل طرین کورٹ مارشل تھا‘ جنرل آصف یاسین نے شروع میں ہی ہتھیار پھینک دیے لہٰذا ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی‘ میری اطلاعات کے مطابق جنرل فیض پر ابھی تک 9مئی کے جرائم پر مقدمہ نہیں چلایا گیا‘

ان کے باقی جرائم ہی اس قدر زیادہ ہیں کہ 9 مئی کی باری ہی نہیں آئی‘ آخری اطلاعات کے مطابق 13 نومبر کی رات تک 14 گھنٹے مسلسل سماعت ہوئی اور کیس ختم ہوگیا‘ کارروائی ساڑھے آٹھ سو صفحات پر مشتمل ہے‘ کورٹ مارشل تین میجر جنرلز نے مکمل کیا‘ ان کے فیصلے کے بعد فیصلہ اے جی کے پاس جائے گا‘ یہ لیفٹیننٹ جنرل ہیں اور اس کے بعد اسے فائنل اپروول کے لیے آرمی چیف کے پاس بھجوا دیا جائے گا اور یوں جنرل فیض کو سزا ہو جائے گی‘ جنرل فیض حمید 445دنوں سے حراست میں ہیں‘ ان کا مقدمہ اس دوران دو مرتبہ تعطل کا شکار ہوا‘ پاک بھارت جنگ کے دوران مئی اور جون میں کورٹ مارشل کرنے والے دونوں جنرلز ڈیوٹیز پر چلے گئے تھے جس کی وجہ سے مقدمہ رک گیا‘ 27 نومبر کو جنرل ساحر شمشاد مرزا ریٹائر ہوگئے‘ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا عہدہ ختم ہوگیا اور اس کی جگہ نیا عہدہ چیف آف ڈیفنس تشکیل پا گیا‘ فیلڈ مارشل آج سے اس کی کمانڈ سنبھال رہے ہیں‘ان تبدیلیوں کی وجہ سے جنرل فیض کو مزید 15 دن مل گئے‘ یہ فیصلہ اب دسمبر کے آخر یا جنوری کے شروع میں آ جائے گا جس کے بعد جنرل فیض کا معاملہ نبٹ جائے گا‘ فوج نے اگر یہ معاملہ مزید آگے لے جانے کا فیصلہ کیا تو پھر 9 مئی کا باب بھی کھل جائے گا اور یوں عمران خان اور ان کے چھ ساتھیوں کے خلاف بھی کارروائی شروع ہو جائے گی اور اگر یہ ہو گیا تو پھر یہ ایشو آرٹیکل چھ تک جائے گا لیکن جہاں تک میری معلومات ہیں اسٹیبلشمنٹ اس معاملے کو پھیلانا نہیں چاہتی‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ ایشو پھر چند لوگوں تک محدود نہیں رہے گا‘ اس میں پچیس تیس لوگ آ جائیں گے اور اس کے بعد یہ روایت بن جائے گی اور یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے گا لہٰذا اسٹیبلشمنٹ اس باب کو یہیں بند کر دینا چاہتی ہے۔

جنرل فیض کے کیس کے دوران کئی المیے بھی سامنے آئے‘ پہلا المیہ عمران خان اور پی ٹی آئی کا رویہ تھا‘ جنرل فیض نے ان لوگوں کے لیے اپنی جان‘ عزت اور عہدہ دائو پر لگا دیا تھا لیکن مشکل وقت میں یہ سب غائب ہو گئے‘ عمران خان 9مئی کے دن غائب ہونے پر جنرل فیض سے ناراض ہیں چناں چہ انہوں نے پارٹی کو جنرل کی حمایت سے روک دیا اور پارٹی نے ان کی حمایت میں ٹویٹ تک نہیں کی‘ پی ٹی آئی وکلاء کی پارٹی ہے لیکن پارٹی میں سے کوئی وکیل جنرل فیض کا مقدمہ لڑنے کے لیے آگے نہیں بڑھا‘ جنرل کی فیملی کو اپناو کیل خود کرنا پڑگیا‘ دوسرا جنرل فیض نے اپنی حمایت میں گواہی کے لیے 90 لوگوں کی فہرست دی‘ اس میں دو وزیراعظم عمران خان اور شاہد خاقان عباسی بھی شامل تھے‘ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ‘ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل نوید مختار اور جنرل ندیم انجم بھی تھے اور وہ 35 سیاست دان بھی جن کے دروازوں پر آج بھی جنرل فیض کی وجہ سے سیاست اور اقتدار کا چراغ جل رہا ہے لیکن آپ وقت کا ستم دیکھیے‘ پچاس لوگ جنرل فیض کی بیگم اور صاحب زادی سے ملاقات کے لیے راضی نہیں ہوئے‘ چالیس راضی ہوئے‘ انہوں نے ان سے ملاقات بھی کی لیکن ان میں سے 37 نے گواہی دینے سے انکار کر دیایوں ان کے سینکڑوں دوستوں اور کولیگز میں سے صرف تین نے ان سے ملاقات کی اور ان کے حق میں گواہی دی‘ ان میں ان کے سمدھی بریگیڈیئر حامد ڈار بھی شامل ہیں‘ یہ تین لوگ ان کا کل اثاثہ نکلے جب کہ باقی سب غائب ہو گئے‘ مجھے اچھی طرح یاد ہے لوگ جنرل فیض حمید سے ملنے کے لیے ان کے رشتے داروں کے رشتے داروں کے دروازوں پر بھی بیٹھے رہتے تھے‘ ملک کے 20 کھرب پتی بزنس مین سارا سارا دن ملاقات کے لیے ان کے دفتر بیٹھتے تھے اور جب ان کی باری آتی تھی تو انہیں بتایا جاتا تھا آپ کے پاس صرف دو منٹ ہیں اور یہ دو منٹوں میں اپنی بات مکمل کر کے دوسرے دروازے سے نکل جاتے تھے‘ آپ جنرل فیض کا کروفر دیکھیے6 مارچ 2021ء کو جب عمران نے اعتماد کا ووٹ لیا تو ووٹ پورے کرنے کی ذمہ داری جنرل فیض کو دی گئی اور اس نے 24 گھنٹوں میں سیاست دانوں کو ہانک کر قومی اسمبلی پہنچا دیا‘ چودھری شجاعت اس وقت علیل تھے اور ہسپتال میں زیرعلاج تھے‘ چودھری سالک ان کو کھانا کھلا رہے تھے‘ جنرل فیض نے اپنا ایک کرنل بھجوایا اور وہ چودھری سالک کو ہسپتال سے لے کر اسلام آباد روانہ ہو گیا‘غلام بی بی بھروانہ‘ طارق بشیر چیمہ اور مرحوم عامر لیاقت حسین کو زبردستی پکڑ کر اسلام آباد لایا گیا‘عمران خان کو شک تھا ان کے دس بارہ ایم این ایز غائب ہو جائیں گے‘

جنرل فیض نے ان تمام ایم این ایز کو مختلف کنٹینرز میں بند کر دیا‘ فواد حسن فواد اور احد چیمہ کو جیل میں ڈال دیا گیا‘ فواد صاحب کی کمر میں درد تھا لیکن اس کے باوجود انہیں کموڈ کی سہولت نہیں دی گئی‘ احسن قبال کے بازو پر گولی لگی تھی‘ ان کی فزیو تھراپی چل رہی تھی‘ انہیں اٹھا کر جیل میں پھینک دیا گیا جس کے نتیجے میں ان کا بازو آج بھی ٹیڑھا ہے‘ شاہد خاقان عباسی کو جیل میں ننگے فرش پر لٹایا گیا‘ میاں نواز شریف کے سامنے مریم نواز کو گرفتار کیا گیا اور ان کے واش روم میں کیمرے لگا دیے گئے‘ کراچی میں ہوٹل کا دروازہ بھی توڑ کر مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو گرفتار کیا گیا‘ آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو گرفتار کیا گیا اور سب سے بڑھ کر رانا ثناء اللہ پر 15کلو گرام ہیروئن ڈال دی گئی اور یہ سب کچھ جنرل فیض کے احکامات سے ہوتا تھا لیکن کل کا فرعون آج خود جیل میں بیٹھ کر فیصلے کا انتظار کر رہا ہے‘ یہ عبرت کی نشانی ہے‘ کاش آج کے حکمران اس نشانی سے ہی کچھ سیکھ لیں‘ یہ عاجزی اختیار کریں اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیں‘ اقتدار گھوڑے کی طرح ہوتا ہے‘ یہ ہمیشہ اپنے سوار تبدیل کرتا رہتا ہے‘ کل اس پر فیض حمید سوار تھا‘ آج کوئی اور ہے اور کل پھر کوئی اور ہوگا‘ یہ یاد رکھیں یہ دنیا عبرت سرائے کے سوا کچھ نہیں چناں چہ اللہ سے معافی مانگیں اور عاجزی اختیار کریں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…