بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

راولپنڈی،لڑکی کے بال زبردستی کاٹنے کی ویڈیو وائرل ہونے کا معاملہ، 3 افراد گرفتار

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

راولپنڈی (این این آئی)راولپنڈی پولیس نے بتایا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک لڑکی کے بال جبراً کاٹنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد 3 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک شخص، ایک کم عمر لڑکی کے سر پر کھڑا ہوا ہے اور قینچی سے اس کے بال کاٹ رہا ہوتا ہے، اس دوران وہ خاتون خاموش ہوتی ہے اور پس منظر میں دیگر افراد تماشائی بنے کھڑے ہیں بعد ازاں سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر متاثرہ لڑکی کی ایک اور ویڈیو بھی سامنے آئی،جس میں اس نے الزام لگایا کہ یہ واقعہ ڈیڑھ ماہ قبل راولپنڈی کی کرسچن کالونی میں پیش آیا، اس دوران مجھے مارا پیٹا گیا اور دھمکیاں دی گئیں جب کہ واقعے میں 4 افراد ملوث تھے۔

راولپنڈی پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایک لڑکی پر تشدد اور اس کے بال کاٹے جانے کی ویڈیو سامنے آئی ہے، جس کے بعد لڑکی کا ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے۔کہا گیا کہ واقعہ ڈیڑھ ماہ پہلے راولپنڈی اور اسلام آباد کے علاقے میں پیش آیا تھا اور اس کی پولیس کو پہلے اطلاع نہیں دی گئی تھی۔پولیس کے مطابق راولپنڈی سٹی پولیس افسر (سی پی او) سید خالد حمدانی نے واقعے کا نوٹس لیا، اور پولیس نے ویڈیو میں نظر آنے والی لڑکی سے رابطہ کرنے کے بعد متاثرہ کی درخواست پر تھانہ نصیر آباد میں قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔کہا گیا کہ متاثرہ لڑکی کے بیان کی روشنی میں 3 ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے جب کہ خواتین کے خلاف تشدد، جبر اور استحصال پر مبنی جرائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

بیان کے مطابق راولپنڈی سی پی او نے کہا کہ واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کیا جائے گا اور قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دلائی جائے گی۔گزشتہ رات اسلام آباد پولیس نے بھی اس واقعے پر بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ واقعہ اسلام آباد کے لوہی بھیر علاقے میں نہیں بلکہ راولپنڈی میں پیش آیا ہے جیسا کہ رپورٹ کیا جا رہا تھا۔پولیس کے مطابق اسلام آباد پولیس نے لڑکی کو تلاش کر کے اس کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے جب کہ چھاپے مار کر ملوث افراد کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے، چونکہ واقعہ راولپنڈی میں پیش آیا تھا، اس لیے ملزمان کو متعلقہ پولیس کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…