اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

27 ویں آئینی ترمیم میں تکنیکی غلطی کا انکشاف

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک): 27 ویں آئینی ترمیم میں ایک تکنیکی خامی سامنے آنے کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ترمیم قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد دوبارہ سینیٹ کو بھیجی جائے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں ترمیمی بل کی منظوری کے دوران تکنیکی غلطی رہ گئی تھی، جس کے باعث اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں بل کی منظوری کے بعد اسے دوبارہ سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔ امکان ہے کہ کل سینیٹ دوبارہ 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے گی۔
ذرائع کے مطابق، حکومت نے ترمیمی بل میں مزید ترامیم شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ ان اضافی ترامیم کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جن میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ترامیم کی الگ فہرستیں شامل ہیں۔ قومی اسمبلی سے اضافی ترامیم کی منظوری کے بعد بل کو دوبارہ سینیٹ بھجوایا جائے گا۔

اس سلسلے میں سینیٹ اجلاس کا شیڈول بھی تبدیل کر دیا گیا ہے، اور اب اجلاس ایک دن قبل بلا کر آج شام 5 بجے منعقد کیا جائے گا۔ حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اضافی ترامیم لائی جا رہی ہیں، جبکہ اپوزیشن کی گیارہ ترامیم بھی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ حکومت ان ترامیم کی منظوری کابینہ سے لے گی، جس کے لیے کابینہ کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، قومی اسمبلی کا اجلاس آج دوبارہ منعقد ہو رہا ہے جہاں 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے ایوان میں گزشتہ روز سے بحث جاری ہے اور آج شق وار منظوری دی جائے گی۔
یاد رہے کہ حکومت کو بل منظور کرانے کے لیے 224 ووٹ درکار ہیں جبکہ اس کے پاس 237 ارکان کی حمایت موجود ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف بھی آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوں گے اور ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔
حکومت کی کوشش ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔ بل کی منظوری اور صدرِ مملکت کے دستخط کے بعد، آئینی عدالت کے قیام کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے جائیں گے۔ اگر قومی اسمبلی آج بل منظور کر لیتی ہے تو کل (جمعرات) کو وفاقی آئینی عدالت کے ججز سے حلف بھی لیا جا سکتا ہے، جس کے ساتھ ہی یہ عدالت عملی طور پر قائم ہو جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…