ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

امیر بالاج قتل کیس، طیفی بٹ ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا

datetime 11  اکتوبر‬‮  2025 |

رحیم یار خان/لاہور( این این آئی)امیر بالاج قتل کیس میں نامزد مرکزی ملزم خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ مبینہ پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا جبکہ ایک کانسٹیبل زخمی ہوئے ،سی سی ڈی رحیم یار خان کی جانب سے تھانہ کوٹ سبزل کے علاقے میں مبینہ پولیس مقابلہ ہوا جس میں لاہور پولیس کو مطلوب ملزم خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔

مختلف میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دبئی سے انٹر پول کے ذریعے گرفتار کر کے پاکستان واپس لائے جانے والے خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ کو لاہور منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں اس کے ساتھیوں نے پولیس پر حملہ کر کے اسے چھڑا لیا، پولیس نے فوری تعاقب کیا اور مسلح ملزمان کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ طیفی بٹ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوا، پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا جبکہ طیفی بٹ کی لاش کو مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔فائرنگ کے تبادلے میں پولیس کانسٹیبل نور حسن بھی زخمی ہوگیا۔ یاد رہے کہ لاہور کی معروف کاروباری شخصیت ٹیپو ٹرکاں والے کے بیٹے امیر بالاج ٹیپو کو 18 فروری 2024 کو شادی کی تقریب میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔بعدازاں اگست 2024 میں امیر بالاج ٹیپو قتل کیس کا ایک مرکزی ملزم احسن شاہ مبینہ مقابلے میں ہلاک ہو گیا تھا، احسن شاہ مقتول امیر بالاج ٹیپو کا قریبی دوست تھا، جس پر الزام تھا کہ اس نے گوگی بٹ کی ملی بھگت سے امیر بالاج کی ریکی کی تھی۔

ستمبر 2025 میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ گوگی بٹ نے امیربالاج ٹیپو کو قتل کروانے کے لیے منصوبہ بندی کی تھی۔جے آئی ٹی ذرائع کے مطابق خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ امیربالاج قتل کیس کے مرکزی ملزم طیفی بٹ سے رابطے میں رہا تھا، گوگی بٹ ٹیپو خاندان کے تمام سابقہ قتل کیس میں بھی نامزد ملزم رہا ہے۔امیر بالاج کے قتل کے بعد ملزم خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ فرار ہو گیا تھا بعد ازاں ملزم نے ضمانت حاصل کرلی تھی جبکہ ملزم طیفی بٹ اشتہاری ملزم تھا جسے دبئی سے حراست میں لے کر پاکستان منتقل کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…