منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی کی تاریخ کا سب سے بڑاجنسی اسکینڈل، ملزم نے عدالت میں جرم قبول کرلیا

datetime 21  ستمبر‬‮  2025 |

کراچی (این این آئی)بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے شربت فروش ملزم شبیر تنولی نے زیر دفعہ 164 کے اعترافی بیان میں جرم قبول کرلیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت کے روبرو شربت فروش کا متعدد بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے کے 6 مقدمات کی سماعت ہوئی۔ پولیس نے ملزم کو اعترافی بیان ریکارڈ کرانے کے عدالت میں پیش کیا۔ احاطہ عدالت میں متاثرہ بچی کی والدہ نے ملزم کو مارا۔ عدالت آنے والے سائلین نے بھی ملزم کو مارا جس سے ملزم کے کی حالت بگڑ گئی۔ملزم شبیر تنولی کا زیر دفعہ 164 کا اعترافی بیان مجسٹریٹ کے چیمبر میں قلمبند کیا گیا۔ ملزم کی ہتھکڑی کھول کر چیمبر میں جج کے روبرو بٹھایا گیا۔

مجسٹریٹ نے استفسار کیا کہ آپ کو پتا ہے کہ آپ اس وقت کہاں موجود ہیں۔ ملزم نے کہا کہ جی میں اس وقت عدالت میں ہوں اور بیان قلمبند کروانے لایا گیا ہوں۔ ملزم نے مجسٹریٹ کے روبرو زیادتی کا اعتراف کرلیا۔ عدالت نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔استغاثہ کے مطابق دو روز قبل متاثرہ بچیوں کا 164 کا بیان قلمبند کیا جا چکا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو ملزم شبیر تنولی کی شناخت پریڈ بھی مکمل ہوچکی۔ متاثرہ بچیوں کی جانب سے ملزم شبیر تنولی کو شناخت کیا جاچکا ہے۔ ملزم 2016 سے متعدد بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے کے ساتھ ویڈیوز بھی بنایا کرتا تھا۔ ملزم شبیر تنولی کو اہل علاقہ کی شکایت پر گرفتار کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…